alwatantimes
Image default
کھیل

انکشاب:مجھے ٹیسٹ ٹیم کے اعلان سے ڈیڑھ گھنٹے قبل ہی ون ڈے کپتانی سے ہٹا دیا گیا تھا: وراٹ

ممبئی: ہندوستانی ٹیسٹ کپتان وراٹ کوہلی نے کہا کہ ٹسٹ ٹیم کا اعلان ہونے سے ڈیڑھ گھنٹے قبل انہیں ون ڈے ٹیم کی کپتانی سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کی اطلاع انہیں چیف سلیکٹر سے موصول ہوئی۔ انہوں نےیہ بھی کہا کہ وہ ون ڈے سیریز کے لئے دستیاب ہیں اور میڈیا میں ان کے آرام کرنے کی رپورٹس جھوٹی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی اس بارے میں ٹیم انتظامیہ سے کوئی بات نہیں ہوئی ۔روہت شرما کو ساؤتھ افریقہ دورے سے قبل ون ڈے ٹیم کا کپتان بنایا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں ٹیسٹ ٹیم کی نائب کپتان کی بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ روہت ہیمسٹرنگ چوٹ کے سبب جنوبی افریقہ کے ٹیسٹ دورے سے ہٹ چکے ہیں۔بدھ کو، جنوبی افریقہ کے دورے سے قبل ایک پریس کانفرنس میں، ٹیسٹ کپتان کوہلی نے کہا ’’8 دسمبر کو، چیف سلیکٹر نے سب سے پہلے مجھ سے ٹیسٹ ٹیم کے بارے میں مشورہ کیا، اس کے بعد انہوں نے مجھے مطلع کیا کہ میں اب ون ڈے کپتان نہیں ہوں اور یہ پانچوں سلیکٹرز کافیصل تھا۔ میں نے بھی جواب میں ’اوکے فائن‘ کہہ دیا۔ بس اسی دن یہی ہوا تھا۔ اس سے پہلے مجھ سے اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ون ڈے سیریز کے لیے دستیاب نہ ہونے پر وراٹ نے کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ وہ ہمیشہ سےدستیاب تھے۔ انہوں نے کہا ’’آپ لوگوں کو مجھ سے نہیں ان سے یہ سوال کرنا چاہیے، جو اپنے ذرائع کے حوالے سے ایسی خبریں لکھ رہے تھے۔ میری بی سی سی آئی سے اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی کہ میں آرام چاہتا ہوں۔ جو لوگ ایسی رپورٹیں لکھتے ہیں، وہ قابل اعتبار نہیں ہیں۔ میں جنوبی افریقہ کے دورے کے ایک روزہ میچوں کے لیے دستیاب ہوں اور ہمیشہ ہندوستان کے لیے کھیلنا چاہتا ہوں۔وراٹ نے یہ بھی کہا ’’جب میں نے ٹی 20 کپتانی سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور اپنے فیصلے کے بارے میں بی سی سی آئی سے رابطہ کیا تو میرے فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے لئے نہیں کہا گیا۔یسٹ کپتان نے واضح کیا کہ ورلڈ کپ سے قبل ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی چھوڑنا کا خیر مقدم کیا گیا تھا اور بی سی سی آئی کے اعلیٰ حکام نے اسے ایک ترقی پسند فیصلہ قرار دیا۔ وراٹ کے یہ الفاظ بورڈ کے صدر سورو گنگولی کے ان الفاظ کے عین برعکس تھے جس میں گنگولی نے وراٹ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کو کہا تھا۔وراٹ نے کہا ’’مجھ سے دوبارہ غور کرنے کے لئے نہیں کہا گیا، جبکہ یہ کہا گیا کہ یہ ہندوستانی کرکٹ کے مستقبل کے لیے صحیح سمت میں لیا گیا ایک درست فیصلہ ہے۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ میں ون ڈے اور ٹیسٹ کی کپتانی جاری رکھنے کا خواہش مند ہوں۔ میری طرف سے سب کچھ واضح تھا، میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ مجھے ٹیسٹ اور ون ڈے کی کپتانی چھوڑ دینی چاہیے تو میں اس کے لیے بھی تیار ہوں‘‘۔انھوں نے زور دیا کہ انھیں ہندوستان کے لیے کھیلنے سے کوئی بھی واقعہ متاثر نہیں کر سکتا۔ انہوں نہا کہ’’باہر جو کچھ بھی ہوا، یہ مثالی صورت حال نہیں ہے، لیکن ہم اس پر قابو بھی نہیں پا سکتے۔ میں اس دورے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوں اور ٹیم کو جیتانے کے لیے اپنی پوری کوشش کرنا چاہتا ہوں۔

Related posts

چنئی کو پہلی جیت کے لیے اپنی پرانی شکل میں آنا ہوگا

alwatantimes

قرآنی انقلاب کی تابشیں [قرآن! پیامِ حیات اور نجات کی کلید ہے….] 

cradmin

ہندوستان نے آخری ون ڈے میں چھ وکٹوں سے جیت درج کی

alwatantimes

Leave a Comment