alwatantimes
Image default
ادبیات مضمون

شکیل بدایونی کے عکس شاداں بدایونی

ناصرین فاطمہ
چک الہداد، مظفر پور، بہار
بیباک اور حق گو مبصر، بلند پایہ ناقد اور فکر و نظر کے کہنہ مشق شاعر میں شاداں بدایونی کا شمار ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ ان کی آنکھیں جو کچھ دیکھتی ہیں وہ اسی کو صفحئہ قرطاس پر پھیلا دیتے ہیں۔ چاہے قطعہ ہو، رباعی یا غزل ان کا موء قلم سماج کی ہر جنبش، ساعت، مصلحت اور مقدرت پر اٹھ جاتا ہے
لکھا ہے جو مرے چہرے پہ تم وہی پڑھ لو
مری حکایت دل معتبر نہیں نہ سہی
ہم اپنا نام تو بزم جہاں میں چھوڑ چلے
ہمارے غم میں کوئی آنکھ تر نہیں نہ سہی
یہ خوبصورت، دل آویز، معنی خیز سطور شاداں بدایونی کی کتاب ” زمین کی خوشبو ” کے ہیں۔ حقیقت بیانی ان کا سیوہ تھا وہ زندگی کے حالات پر بہت گہری نظر رکھتے تھے۔ مزکورہ اشعار سے ان کی شعر گوئی کا پتہ لگتا ہے۔ کہ وہ بہت ہی بے باک اور پر لطف انداز میں لکھتے تھے۔ شاداں بدایونی غزلیں، قطعات و رباعیات کے ساتھ ہی نثری تصانیف بھی تحریر فرماتے تھے۔ اس کتاب کا مقدمہ میرٹھ سے شائع ہونے والے ” میلہ ” کے مدیر سید اخترالاسلام نے لکھا ہے۔ وہ شاعر کے بارے میں لکھتے ہیں شعر و شاعری شاداں بدایونی کے گھر کی لونڈی تھی۔ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ آپ کے والد کے پاس مشاہیر شعراء کی بکثرت آمد و رفت اور نشست و برخاست تھی۔ اس لئے ہوش سنبھالتے ہی آپ کو شعر و شاعری کا چسکا پڑ گیا تھا۔ وہ فلم کے مشہور شاعر جناب شکیل بدایونی ان کی رفیقئہ حیات کے قریب عزیز (برادر) تھے۔ شکیل بدایونی کے بعد انہوں نے ان کے گھر کو آباد رکھا، ان کی یادیں باقی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی، شکیل میموریل اکیڈمی قائم کی جو بخوبی کام کر رہا ہے۔ شاداں بدایونی کے بعد ان کے صاحبزادے کامل مجید مدیر ” ہماری آواز ” ” قوم کی آواز ” آج بھی اپنے ماما شکیل بدایونی کے گھر کو آباد رکھے ہوئے ہیں۔ شاداں بدایونی فرماتے
میرے احباب مرا قیمتی سرمایہ ہیں
میری تحویل میں یہ لال و گہر رہنے دو
شاداں بدایونی کا اصل نام عبدالمجید صدیقی تھا۔ 2005 میں وہ ہمارا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے مگر ان کی یادیں آج بھی زندہ ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ محبتوں کے شاعر، خلوص کے امین و رہین، اخلاقی اقدار کے پاسدار اور انسانیت کا پیکر تھے۔ وہ لکھتے ہیں
جہاں میں ذرہ ذرہ حسن کا پیکر نظر آیا
محبت سے جسے دیکھا وہی دل میں اتر آیا
سفینہ ڈوبنے والا تھا جب دریا میں اے شاداں
مجھے ہر موج کے آغوش میں ساحل نظر آیا
ان کے انہیں معنی خیز و پر لطف انداز نے انہیں اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی زندہ کر رکھا ہے، ان کی یادیں ابھی بھی فضاں میں خوشبو کی طرح پیوست ہیں۔ ان کے اصناف ادب پر قلم اٹھانے کے متعلق میلہ کے مدیر نے لکھا ہے کہ اس پر لکھنے لکھانے کے لئے دفاتر درکار ہیں۔ جن کا عشر عشیران کے چار مجموعہ ہائے کلام ” خطا معاف سبزہ و گل “، ” لب بہ لب ” اور ” کشت زعفران ” میں مختص ہو گیا ہے جس سے ائندہ زمانے کا محقق فیضیاب ہوکر بقول غالب کہہ اٹھے گا
زبان پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لئے
دانشوروں کی نظر میں شاداں بدایونی کی زندگی ایک مثلث کے مانند ہے۔ جس کے تین زاویہ ہیں، پہلا صحافت، دوسرا ظرافت اور تیسرا غزلیت ہے۔ یعنی وہ تین کشتیوں کے کامیاب شہ سوار تھے۔ صحافت ان کی نثر نگاری، ظرافت یعنی طنز مزاح ان کی شگفتہ و صحت مند و برجستہ تنقیدی بصیرت اور غزلیت یعنی شعر و شاعری ان کا پرواز تخیل ہے۔ ان کے تخیل کا اندازہ آپ ان کے اس ایک بند سے بخوبی لگا سکتے ہیں
وہ پاس رہ کر بھی اس سادگی سے ملتا ہے
کہ جیسے کوئی کسی اجنبی سے ملتا ہے
اگر شعور میںہو پختگی تو اے شاداں
قدم قدم پر سبق زندگی سے ملتا ہے
بیباک اور حق گو مبصر، بلند پایہ ناقد اور فکر و نظر کے کہنہ مشق شاعر میں شاداں بدایونی کا شمار ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ ان کی آنکھیں جو کچھ دیکھتی ہیں وہ اسی کو صفحئہ قرطاس پر پھیلا دیتے ہیں۔ چاہے قطعہ ہو، رباعی یا غزل ان کا موء قلم سماج کی ہر جنبش، ساعت، مصلحت اور مقدرت پر اٹھ جاتا ہے۔ بھکاری کو دیکھ کر جو تاثرات انہوں نے قلم بند کیا ہے اس کی ایک مثال پیش ہے
مرمر کے جی رہے ہیں ہنرمند آج کل
ہے بندروں کی موج مداری مزے میں ہیں
کھانے کی فکر ہے نہ کمانے کی فکر ہے
ہم اور آپ سے تو بھکاری مزے میں ہیں
شاعر معتبر ہو، خوش مزاج ہو تو ان کے لکھنے کا انداز نرالا ہوتا ہے تو سامعین بھی پوری طرح لطف اندوز ہوتے ہیں۔ شاداں بدایونی کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ ایک پرلطیف، پر مزاق، بامروت، متواضع، متوازن، خوش اخلاق، وضع دار، متوکل اور تعلقات کو ہمیشہ دوسری عام چیزوں پر مقدم رکھنے والی دلنواز شخصیت ہیں۔ ان کی یہ شخصیت نہ صرف بدایوں، بلکہ بیرون شہر، بیرون ریاست میں بھی ان کا اخلاق اور اخلاص بوئے رمیدہ کی طرح ماحول کو عطر بیز کئے ہوئے ہے۔
غم میں ڈوبا ہوا ہر شخص کا افسانہ ہے
پھر بھی دنیا کا جسے دیکھئے دیوانہ ہے
بام و در گنبد و مینار ہیں ہمشکل مگر
لوگ کہتے ہیں یہ مسجد ہے وہ بتخانہ ہے
شاداں بدایونی میں تنظیمی صلاحیت بھی تھی۔ ان کی اپنی ایک تنظیمی دنیا تھی۔ وہ عالمی، ادبی و ساماجک اداروں سے وابستگی رکھتے تھے۔ انجمن ترقی اردو بدایوں کے صدر، صدر سلیم مبشر اردو سوسائٹی بدایوں، صدر مسلم مسافر خانہ کمیٹی بدایوں، صدر انجمن دربار ادب بدایوں اس کے علاوہ وہ پریس کلب، جنرلسٹ یونین بدایوں کے بھی صدر تھے۔ ان کی وابستگی مذہبی ادارہ سے بھی تھی، مدرسہ شمس العلوم بدایوں کے وہ کارگزار سیکریٹری و خزانچی بھی تھے۔
علمی، ادبی، صحافتی و سماجی، ملی خدمات کے لئے انہیں اعزازات سے نوازا گیا۔ آل انڈیا اردو اسمال نیوز پیپرس کونسل نئی دہلی نے 1980 میں انہث ” فخر اردو ” ایوارڈ، اردو اکادمی، لکھنؤ، اتر پردیش نے ” فخر صحافت ” ایوارڈ سے جناب شاداں بدایونی کو ان کی گراں قدر خدمات کے لئے نوازا، وہیں اتر پردیش اردو ایڈیٹرس ایسوسیشن، لکھنؤ کی طرف سے ریاست کے کارگزار گورنر موتی لال ووہہرا کے ہاتھوں اعزاز پایا۔ جب ہم صحافتی خدمات کے لئے شاداں بدایونی کو نوازے جانے کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی صحافتی خدمات کا ذکر بھی لازم ملزوم ہوجاتا ہے۔ جنگ آزادی سے زندگی کے آخری وقت تک انہوں نے صحافتی خدمات کو انجام دیا۔ سال 1945 میں وہ روزنامہ ” سیاست ” کانپور، ” غبار راہ ” رام پور سے شائع ہونے والے ” قومی جنگ ” اور 1946 میں روزنامہ ” الجمیعت ” دہلی و ” نئی دنیا ” و 1948 میں روہیلکھنڈ اخبار بریلی کے نامہ نگار رہے۔ سال 1947 میں انہوں نے ” ہماری آواز ” کی اشاعت شروع کی اور 2005 تک اس کے مدیر رہے ساتھ ہی 1949 میں ہفتہ روزہ ” دیش ” بدایوں کے مدیر بھی رہے، اسی سال انہوں نے ایک اور اردو اخبار ” قوم کی آواز ” کو بدایوں سے شائع کیا اوراس کے بھی وہ چیف مدیر ہوئے۔ آخر میں شاداں بدایونی کو خراج عقیدت و گلہائے عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں کے چند اشعار سے اس مضمون کو موقوف کرتی ہوں
مانگے کوئی تو جسم کا خوں دے دیا کرو
اہل وطن سے اپنے محبت کیا کرو
اپنے لئے جیو یہ نہیں مقصد حیات
تازیست دوسروں کے لئے تم جیا کرو
دیوانگی کی شان تو رسوائیوں میں ہے
کس نے کہا ہے چاک گریباں سیا کرو
شاداں برا زمانے کو کہنے سے قبل تم
اپنا محاسبہ بھی کبھی کر لیا کرو

Related posts

انوارالحسن وسطوی کی تصنیف ’’ آتی ہے ان کی یاد‘‘ میرا مطالعہ

alwatantimes

کھلے میں نماز پر سیاست

alwatantimes

روزہ اظہار عبدیت کا بہترین ذریعہ

alwatantimes

Leave a Comment