alwatantimes
Image default
اسلامیات مضمون

خانقاہ منعمیہ کی اشاعتی سرگرمیوں پرایک نظر(خانقاہ منعمیہ کی زیر طبع کتابیں)

محب اللہ مصباحی
استاد جامعہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی
صوفیائے کرام کی خانقاہیں اس حوالے سے بھی ممتاز رہی ہیں کہ وہاں کم و بیش ہر زمانے میں تصنیف و تالیف اور علمی شغل کا سلسلہ جاری رہا ہے۔برصغیر میں اکثر تصنیف و تالیف ،تشریح و توضیح اور نکات و حواشی کا شجرہ خانقاہوں سے جا ملتا ہے۔ اس حوالے سے آج کے دور میں خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سٹی بھی نمایاں توجہ کی حامل ہے اور اس کی خدمات صدیوں کی علمی محنتوں کو پوری چابکدستی اور خلوص کے ساتھ دھو پونچھ اور سجا سنوار کر نئی نسل کے لیے مہیا کرا رہی ہے۔ سات صدیاں قبل جو کچھ لکھا گیا ایسا لگتا ہے جیسے قدرت نے فیصلہ کر لیا تھا کہ صدیوں پہلے جنم لینے والے علمی شہ پاروں کی اشاعت کی علمی خدمات خانقاہ منعمیہ انجام دے گی ۔چنانچہ آگے کی سطروں میں آپ ملاحظہ کریں گے کہ گزشتہ چند برسوں سے لگاتار کس قدر ذمہ داری، جذبے اور حوصلے کے ساتھ یہ کام خانقاہ منعمیہ کا دارالاشاعت انجام دے رہا ہے۔اب تک شائع ہونے والی کتابیں یہ ہیں: اسرارقمریہ، مکتوبات حسنیہ، تحقیق الاضابیر فی سماع المزامیر، القول المنیر فی جواز السماع بالمزامیر، فائض البرکات، اوراد شرفی (اردو، ہندی) مظہر الاسرار، حجۃ العارفین، اسرارالصلوٰۃ، رسالہ مرشدیہ، اخبارالاولیاء، تجویدالمختار، خانقاہ منعمیہ ایک تعارف (ہندی، انگریزی) فوائد رکنیہ، تاریخ صوفیائے بہار(دوم)، اخلاق نبوی ومحاسن مصطفوی، شورش عشق،مخ المعانی،کنز المعانی، اسباب نجات،نکات نقش فصوص۔ ذیل میں وہ کتابیں ذکر کی جاتی ہیں جو زیور طبع سے آراستہ ہوکر پیش قارئین ہوا چاہتی ہیں۔
گنج لا یفنیٰ
حضرت زین بدر عربی کا جمع کردہ گنج لا یفنی سلطان المحققین مخدوم جہاں امام شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری کےملفوظات کا ایک ایسا روزنامچہ ہے جس سے مخدوم جہاں کی بارگاہ کے مزاج و آہنگ اور علم و عرفان میں آپ کے کمال درک کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔اس کے گوناگوں مضامین اور جوابات کے رنگ میں موجود لا زوال علمی و فقہی سرمایے بے شمار حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں۔یہ کتاب جہاں فارسی کی عمدہ نثر کے ساتھ موجود ہے وہیں خاصا خزانہ اشعار پر بھی محیط ہے۔ پہلی بار خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سٹی نے اس کا اردو ترجمہ جناب مولانا عابد چشتی صاحب سے کرایا ہے جو حضرت سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی کی تحقیق،تدوین، تصحیح اور گراں مایہ تقدیم اور راقم کی تخریج کےساتھ آ رہی ہے۔
نغمہ اسرار
اکثر صوفیائے کرام کے معمولات میں مزامیر کے ساتھ مجلس سماع بھی ہے۔ بعض علمائے ظواہر اس مسئلہ میں سخت تشدد سے تحریم تک پہنچ جاتے ہیں۔ خانقاہ منعمیہ کے دوسرے سجادہ نشیں اور وسیع النظر عالم باکمال حضرت سید شاہ غلام حسن منعمی رائے پوری نے اس سلسلے میں ایک مدلل رسالہ بزبان فارسی تالیف فرمایا ہے جو اس فقیر کے ترجمے اور تخریج کے ساتھ منظر عام پر آرہی ہے۔
جواہر الانوار
فلسفۂ تصوف پر بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن تصوف پر تحریر کا فقدان ہے۔ اعلیٰ حضرت سید شاہ قمرالدین حسین منعمی ابوالعلائی قدس سرہ اوائل تیرھویں صدی ہجری میں کامیاب ترین مرشد راہ حق ثابت ہوئے ہیں ان کی مایہ ناز تایف جواہر الانوار عملی تصوف کا شاہکار ہے۔ اس بیش بہا فارسی تالیف کا اردو ترجمہ اس فقیر کے قلم سے عن قریب علمی دنیا کی خدمت میں پیش ہوگا۔ان شاء اللہ العزیز
رسالہ فردیہ شرح صمدیہ
حضور غوث اعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی کی تصنیفات و تالیفات میں ایک رسالہ رسالہ صمدیہ بھی ملتا ہے۔ یہ رسالہ مختصر مگر کوزے میں سمندر کی مانند ہے۔ اس مختصر رسالہ کی توضیح و تشریح، حضرت دیوان سید ابوسعید جعفر محمد قدس سرہ العزیز نے فرمائی ہے جس کو رسالہ فردیہ شرح صمدیہ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ حضرت کے دست خاص کا لکھا ہوا ایک قیمتی نسخہ خانقاہ منعمیہ کی لائبریری میں محفوظ ہے۔ حضرت سیدنا مخدوم منعم پاکباز کے مطالعہ سے بھی یہ رسالہ گذرا ہے۔ یہ بہت نایاب رسالہ ہے۔ اس کے نسخے نہ کے برابر ملتے ہیں۔ خانقاہ منعمیہ اس رسالے کو دیوان ابوسعید کی تشریح کے ساتھ شائع کرنے کی سعادت حاصل کیا چاہتی ہے۔ شرح مع متن دونوں کے اردو ترجمہ کا فریضہ بدر عالم خلشؔ صاحب نے انجام دیا ہے۔
شیخ الشیوخ عمر بن محمد شہاب الدین سہروردی(ایک تحقیقی مقالہ)
او اخر چھٹی اور ابتدائی ساتویں صدی ہجری میں جو شخصیتیں اسلامی دنیا کی مرکز نگاہ بنی رہیں ان میں سب سے اہم نام حضرت شیخ الشیوخ عمر بن محمد شہاب الدین سہروردی کا ہے۔ حضرت غوث اعظم سیدنا محی الدین عبدالقادر جیلانی کے بعد یہ شخصیت پوری دنیائے اسلام کی توجہات کا مرکز رہی۔ انہوں نے نہ صرف رشدو ہدایت اور تبلیغ و دعوت کا کام کیا بلکہ دائرۂ تبلیغ و دعوت کو انتہائی منظم طریقے سے پوری دنیا تک پھیلایا۔ ان کی نگاہ بطور خاص اس بر صغیر پر تھی۔ چنانچہ اپنے ایک خط میں خود فرمایا ہے کہ خلفائی فی الھند کثیرۃ ۔ یعنی آپ نے کثرت سے اپنے خلفا ہندوستان کی جانب بھیجے اور اس طرح بھیجے کہ جگہ کا بھی تعین فرما دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ کی دل چسپی دنیا کو اس کام کی جانب راغب کر نے میں باضابطہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس ہندوستان میں بنگال کے بعض ایسے علاقے جو آج کی دنیا میں انٹیریر کہے جاسکتے ہیں وہاں بھی آپ کی نظر تھی اور مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کے مطابق ستر خلیفہ تو صرف ست گاؤں میں آئے تھے جو اب چاٹ گام کہلاتا ہے۔ اس کثرت سے خلفا کی آمد سے برصغیر سہروردیہ سلسلہ کا ایک عظیم مرکز بنا اور کثرت سے لوگ اسلام و تصوف کی جانب مائل ہوئے جس کا سہرا حضرت شہاب الدین سہروردی کے سرجاتا ہے۔ آپ ایک اعلیٰ درجے کے مصنف بھی تھے۔ مشہور زمانہ کتاب عوارف المعارف آپ ہی کی علمی کاوش کا نتیجہ ہے اور یہ کتاب ایسی ہے جس کے متعلق شیخ نجم الدین کبریٰ ولی تراش نے یہ فرما دیا کہ ہر کہ ایں کتاب مخدوم زادہ را نداند او صوفی نباشد۔ یہ کتاب تمام سلاسل میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے۔ یہ تحقیقی مقالہ ان تمام خوبیوں اور خصائص کو سمیٹے ہوئے حضرت کی حیات مبارکہ اور خدمات کو جامع ہے۔ جس کے مصنف حضرت سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی حفظہ اللہ تعالیٰ سجادہ نشیں خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی ہیں۔ یہ کتاب بھی ان شاء اللہ زیور طبع سے آراستہ ہوکر جلد ہی پیش قارئین ہوگی۔
ارشاد المریدین
صاحب عوارف المعارف شیخ شہاب الدین سہروردی کی ایک اور مایۂ ناز تصنیف عربی زبان میں ارشاد المریدین ہے۔ یہ کتاب مصطحات تصوف پر ایک نہایت جامع رسالہ ہے۔ ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری میں بے حد مقبول رہا ہے۔ اس کے حوالے اس دور کی کتابوں میں جابجا پائے جاتے ہیں۔ یہ قیمتی رسالہ اب تک شائع نہ ہوسکا تھا۔ ہندوستان میں اس کے تین ہی نسخے ملتے ہیں۔ بڑی محنت اور جانفشانی کے ساتھ اس کتاب کی تحقیق و ترتیب کا فریضہ حضرت سیدشاہ شمیم الدین احمد منعمی مدظلہ العالی نے انجام دیا ہے اور اب یہ رسالہ اصل عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ ناظرین کے روبرو ہوا چاہتا ہے۔
اوراد قادریہ
حضور غوث پاک سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کی اولاد میں جو مستند ترین شخصیت اس برصغیر میں آئی وہ سید محمد غوث حلبی اوچی قادری کی ہے۔ آپ بڑے پیر کے بڑے بیٹے کی نسل میں ہیں۔ آپ حلب ہوتے ہوئے ملتان کے قریب اوچ تشریف لائے اور وہاں اپنا سجادۂ رشد و ہدایت بچھایا۔ آپ کا خاندان و ہ مشہور خاندان ہے جس میں کثرت سے اولیائے کرام پیدا ہوئے۔ انہوں نے سلسلہ قادریہ جوان کا نسبی سلسلہ بھی تھا خوب خوب پھیلایا۔ آپ ہی کی اولاد میں آپ کے پوتے حضرت جمال الدین موسیٰ نے جو شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے پیر و مرشد ہیں، ایک بڑی گراں قدر کتاب تالیف فرمائی ہے جسے دنیا اوراد قادریہ کے نام سے جانتی ہے۔
حضرت شیخ جمال الدین موسیٰ صاحب اوراد قادریہ کی اولاد میں حضرت سید شاہ عبدالمنان قادری دہلی سے عظیم آباد آئے اور یہاں ان کی خانقاہ مشہور و معروف ہوئی۔ آپ کی خانقاہ کی سجادگی خانقاہ منعمیہ قمریہ کی سجاد گی میں ضم ہوچکی ہے اور آپ کے نواسے اعلیٰ حضرت سید شاہ قمرالدین حسین منعمی قدس سرہ العزیز کی اولاد آپ کی جانشیں ہے۔ اورادقادریہ میں روزانہ سے لیکر ہفتہ وار، ماہانہ اور خصوصی اوراد وظائف، اذکار و اشغال اور نمازوں کے ساتھ ساتھ فلسفہ فقر و دریشی پر انتہائی خوش اسلوبی اور ایجاز کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب تقریباً چار سو برسوں سے اہل علم اور اہل فقر و درویشی کے درمیان مقبول ہے۔ اس کا قدیم نسخہ خانقاہ منعمیہ کی لائبریری میں محفوظ ہے۔ پہلی بار خانقاہ منعمیہ کو یہ کتاب حضرت سید شاہ شمیم الدین احمدمنعمی زیب سجادہ خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ، پٹنہ سیٹی کے اردو ترجمہ اور ضروری حواشی کے ساتھ شائع کرنے کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ فی الحال اس کی کمپوزنگ کا کام جاری ہے۔
مواطن التنزیل
شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی کے افکار و خیالات تقریباً سات سو برسوں سے صوفیہ کی مرکز نگاہ بھی ہیں اور اہل علم کے نقد و دفاع کا شکار بھی۔ شیخ اکبر کے افکار و خیالات کی تشریح و توضیح پر متعدد کتابیں لکھی گئیں۔ حضرت مخدوم منعم پاکباز رحمۃ اللہ علیہ کے خلفا کے درمیان بھی ان کے افکار و خیالات پر بحث اور تشریح و توضیح کا مزاج تھا۔ چنانچہ مخدوم حسن علی کے مکاتیب میں بھی شیخ اکبر کے خیالات پر بھی عمدہ بحثیں ملتی ہیں۔ حضرت شاہ عبدالغنی پھلواروی نے بھی جو جید عالم اور متبحر صوفی گذرے ہیں، اپنے شیخ کی خدمت میں ان بحثوں میں دل چسپی لی اور نتیجتاً ایک کتاب شیخ اکبر کے افکار و خیالات کی مثبت توضیح و تشریح میں تالیف فرمائی جس کا نام مواطن التنزیل ہے۔ اس کتاب کا عربی متن ایک بار شائع ہوا ہے جو اب نایاب ہے۔ پہلی بار اس عربی متن کا اردو ترجمہ مع ضروری حواشی خانقاہ منعمیہ شائع کرنے کا شرف حاصل کرنے جارہی ہے۔ اس کا اردو ترجمہ مفتی رمضان علی فرقانی نے کیا ہے۔ جلدہی خانقاہ منعمیہ کی تحقیقی ٹیم کی نظر ثانی کے ساتھ منظر عام پر آئے گی۔ ان شاء اللہ
تاریخ صوفیائے بہار (جلد اول)
بہار میں صوفیائے کرام کی تاریخ کم وبیش 9صدیوں کو محیط ہے۔ سیاسی کد وکاوش سے پہلے محبت اور امن وآشتی کے ساتھ جام توحید پلانے والے اس سر زمین پر اپنی بساط خدمت بچھاچکے تھے۔ صوفیائے کرام نے علمی، عرفانی، سماجی، ثقافتی ہر سطح پر اپنے اثرات چھوڑے۔ آدمی کو قریب کیا ،ماحول کو پرامن بنایا، تہذیب و ثقافت کو پروان چڑھایا۔ زبان و بیان کو صحت و سلامتی بخشی اور نفرت و تعصب کو مٹایا۔ گرے پڑوں کو گلے لگایا۔ تصنیف و تالیف، شروح و حواشی، تدریس و تحقیق اور رشد و ہدایت کا گراں قدر فریضہ انجام دیا۔ ان صوفیائے کرام کی وجہ سے دنیا بہار کی طرف متوجہ ہوئی اور تشنگان علم و اگہی اپنا قبلہ بہار کی جانب درست کرنے لگے۔ بہار میں صوفیائے کرام کے تذکرے تولکھے گئے لیکن باضابطہ کوئی تاریخ ان بزرگوں کی آج تک منظر عام پر نہیں آئی۔ سلسلہ اور مقام کو بنیا د بنا کر تذکرے تالیف ہوئے لیکن ریاستی سطح کی کوئی تاریخ شائع نہیں ہوئی۔صاحب سجا دہ خانقاہ منعمیہ حضرت ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی نے اس عنوان سے مسلسل کوشش جاری رکھی۔ 1978ء سے جاری یہ کوشش بعض رسائل وجرائد میں قسط وار چھپی بھی جس کے نتیجے میں تاریخ صوفیائے بہارکی جلد دوم معرض تحریر میں آئی اور ابھی تاریخ صوفیائے بہار (جلد اول) زیر ترتیب ہے۔
مکتوبات مولانا مظفر بلخی
حضرت مولانا مظفر بلخی حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری کے بعد آپ کی وصیت کے مطابق سجادہ نشیں ہوئے۔ حضرت مولانا منظر بلخی کا حلقۂ اثر بہار وبنگال اور ہندوستان ہی نہیں بلکہ عرب تک پھیلا ہوا تھا۔ آپ نے ایک زمانے تک حجاز و یمن میں اپنے دائرۂ عمل کو بڑھاے رکھا۔ لہٰذا ہندوستان ہی نہیں ؛ عرب دنیا کے شیوخ، علما اور عوام وخواص بھی آپ کی ذات سے مستفیض ہوئے۔ آپ عالم وقت اور شیخ زمانہ ہیں کہ مخدوم جہاں خود آپ کو امام فرماتے۔ بنگال کا بادشاہ سلطان غیاث الدین آپ سے بیعت کا شرف رکھتا تھا۔حضرت مولانا مظفر بلخی نے بھی حضرت مخدوم جہاں کی طرح مکتوبات کا سلسلہ جاری رکھا جن میں بے شمار اسلامی علوم و فنون کے علاوہ حضرت مخدوم جہاں کی آراء کی تشریح و توضیح بھی ہے۔ نہایت قیمتی مکتوبات کا مجموعہ ہے۔ اس کے کچھ حصہ کا اردو ترجمہ بہت قبل شائع ہوا تھا جو اب ندارد ہے۔ پہلی بار حضرت سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی مدظلہ العالی کی تقدیم و تحقیق اور مولانا وجیہ القمر مصباحی کے ترجمہ کے ساتھ خانقاہ منعمیہ اس کی اشاعت کا شرف حاصل کرے گی۔ ان شاء اللہ
کاشف الاسرار شرح حضرات خمس
الٰہیات اور علم عرفان و تصوف کے مضا مین پر مشتمل برصغیر میں لکھاجانے والا پہلا عربی رسالہ حضرات خمس کی فارسی شرح ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ حضرات خمس حضرت مخدوم حسین بن معز بلخی(م844ھ) کی تصنیف ہے جبکہ اس کی شرح کاشف الاسرارکی تالیف حضرت مصنف کے ہی صاحبزادے مخدوم حسن بن حسین بلخی نے فرمائی ہے ۔حضرات خمس کی اشاعت قدیم زمانہ میں ہوئی تھی اور کاشف الاسرار بھی 1896ء میں چوہٹہ بانکی پور پٹنہ کے مطبع الپنچ سے شائع ہوئی تھی، لیکن اب نایاب ہے۔ الحمداللہ شرح مع متن دونوں کے اردو ترجمہ کی سعادت راقم کو حاصل ہوئی ہے۔ کمپوزنگ کا مرحلہ پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا ہے ۔جلد ہی حضرت سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی مدظلہ العالی کے تحقیق و تقدیم کے ساتھ خانقاہ منعمیہ کے دارالا شاعت سے منظر عام آئے گی۔ ان شاء اللہ المولیٰ تعالیٰ
خطبات منعمی
حضرت سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی سجادہ نشیں خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ، پٹنہ سیٹی کے جمعہ کی علمی، فکری، تحقیقی اور روحانی تقریروں کا مجموعہ ہے۔ بارہ (12) قیمتی خطبات پر مشتمل خطبات منعمی کے مرتب حافظ معراج صاحب قبلہ فریدی استاد ادارۂ شرعیہ پٹنہ ہیں۔ یہ کتاب سیرت، نماز، درود شریف، وسیلہ، شفاعت، رمضان، حج، قربانی وغیرہ موضوعات سے متعلق گراں قدر سرمایہ سے مالامال ہے جو ابھی پروف ریڈنگ کے مرحلہ میں ہے۔ علاوہ ازیں 2012ء تا حال جمعہ کی دیگر ساری تقریریں بھی حضرت مرتب نے انتہائی عرق ریزی کے ساتھ جمع فرمائی ہے جو بارہ ڈائیریوں کو محیط ہے۔ یہ تقریریں خطباء کے ساتھ ساتھ ہر طبقہ کے لیے یکساں مفید اور کا ر آمد ہے۔
مولود شرفی
حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ پر تحریر کیا جانے والا پہلا اردو تذکرہ ہے جس کی تالیف حضرت سید عطا حسین فانی منعمی دانا پوری ثم گیاوی (م1311ھ) نے فرمائی۔ سہ ماہی انوار مخدوم خانقاہ معظم بہار شریف میں دوقسطوں کے اندر یہ شائع بھی ہوا لیکن پہلی مرتبہ خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ، پٹنہ سیٹی اسے کتابی شکل میںلانے جارہی ہے۔ جناب پروفیسر احمد بدر نے اس کی ترتیب فرمائی ہے۔
شمامۃ المعانی
چالیس مجالس پر پھیلی ہوئی شمامۃ المعانی حضرت سیدشاہ شمیم الدین احمد منعمی مدظلہ العالی کے علمی شہ پاروں کا حسین مجموعہ ہے۔ خانقاہ منعمیہ کا ایک علمی رخ بعد نماز مغرب درس و تدریس کا بھی ہے۔ مغرب وعشا کے درمیان یہاں خاصہ وقفہ بھی رہتا ہے جس میں مختلف کتابوں کا درس جاری رہتا ہے۔ اگر کسی کتاب کی تصحیح و تحقیق کا کام انجام پاتا ہے تو اس دور ان بھی درس کا سماں قائم ہو جاتا ہے۔ شمامۃ المعانی دراصل انہیں درسوں کا حصہ ہے جو عموماً سامعین کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالوں کے جوابات کے نتیجے میں سامنے آئی ہے اس کی دو جلدیں تیار ہیں اور مزید جلدیں زیر ترتیب ہیں۔ اس گراں مایہ کتاب کے مرتب جناب محمد آصف احمد منعمی ہیں۔ جنہوں نے بڑی جفاکشی کے ساتھ ملفوظ کو کتاب کی شکل دی ہے۔ ان شاء اللہ جلد ہی یہ کتاب بھی پروریڈنگ اور تخریخ کے مرحلہ سے فارغ ہوکر ناظر ین وقارئین کے آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گی۔
تاریخ سلسلۂ ابوالعلائیہ
سلسلۂ ابوالعلائیہ برصغیر میں متاخرین صوفیائے کرام کے عہد کا نہایت اہم سلسلہ ہے۔ یہ سلسلہ پورے برصغیر میں اپنی نمایاں خدمات، قبولیت اور فیضان کے لیے پہچانا جاتا ہے۔ اس سلسلے کا فیضان اس قدر قوی اور سریع التاثیر محسوس کیا گیا کہ دیگر اہم سلاسل کے افراد نے بھی اس سلسلے کی نعمات حاصل کیں اور خود کو ابوالعلائی نسبت سے بھی وابستہ کیا۔ اس سلسلے کی تاریخ پر بھی ایک اہم کتاب حضرت سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی نے قلم بند فرمائی ہے جو اس سلسلہ کے فیضان کو ازاول تا ایں دم کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ ایک بہت اہم کام ہے جس سے سلسلے کا فیضان بھی سمجھ میں آتا ہے اور اس کی خدمات پر بھی روشنی بھی پڑتی ہے۔ عن قریب یہ کتاب علمی دنیا کے سامنے خانقاہ منعمیہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرے گی۔ ان شاء اللہ ۔
مکتوبات سیدنا امیرابوالعلا
مکتوبات کا جو سلسلہ حضرت شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری نے قبولیت اور عروج کی سر بلند یوں تک پہچایا تھا اسے ان کے بعد تقریباً ہر سلسلے کے مشائخ نے اختیار کیا۔ سلسلۂ ابوالعلائیہ کے بانی مبانی حضرت سیدنا امیر ابوالعلا جو متاخرین صوفیہ میں نہایت مرتاض شخصیت کے مالک ہیں، ان کے مکتوبات بھی اپنے خلفا اور مریدین کے نام تعلیمات کا احاطہ کرتے ہوئے ملتے ہیں۔ یہ اہم مکاتیب قلمی صورتوں میں مختلف خانوادوں میں محفوظ ہیں۔ ان مکاتیب کے ایک حصہ کو شائع بھی کردیا گیا تھا لیکن اب وہ نایاب ہے۔ خانقاہ منعمیہ جلد ہی مکاتیب ابوالعلا کو مرتب، مدون اور اردو ترجمے کے ساتھ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرے گی۔ان شاء اللہ المولیٰ تعالیٰ
المختار للفتوی
جس طرح فقہ حنفی میں قدوری اور ہدایہ کا مقام ہے کہ ایک میں اجمال ہے تو دوسرے میں تفصیل ہے اسی طرح یہ کوششیں حنفی فقہ کے متبحر علما کی رہی کہ دنیا کی سطح پر اتنی بڑی آبادی حنفی فقہ پر کار بند ہے ان میں سب سے بڑی تعداد ان کی جو اس علم فقہ میں درک نہیں رکھتے ہیں، لہٰذا انہیں حسب ظرف درک حاصل ہو؛ متعدد کتابیں معرض تحریر میں آئیں۔ ان میں ایک کتاب شیخ عبداللہ بن محمود مو صلی (م683ھ) کی المختار للفتویٰ اور الاختیار لتعلیل المختار بھی ہے۔ المختار اہم متون میں سے ایک ہے۔ دیگر فقہا کے ساتھ ساتھ حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری کا بھی ماخذ ہے۔المختار کی خاص بات یہ ہے کہ نسبتاً کم اوراق میں تمام فقہی ابواب کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ لاجواب تالیف راقم کے زیر ترجمہ ہے۔

Related posts

جہانِ آرزو

alwatantimes

قرآن مجید کی چند بنیادی معلومات

cradmin

قرآن کا ایک قصہ جس سے مسلمانوں نے سبق نہیں لیا!

alwatantimes

Leave a Comment