alwatantimes
Image default
اسلامیات مضمون

نشے کی علت حرمت میں یہ بھی تھا پہلو!

افتخاراحمدقادری برکاتی
شراب اور جوا عیسائیوں کی دو خطرناک بیماریاں ہیں- جن کا علاج سوائے مذہب اسلام کے کسی اور مذہب نے نہیں کیا- یہ بلا بظاہر اچھی اور حقیقت میں سخت نقصان دہ ہے- تمام مذاہب نے اس کی ظاہری خوبیوں کو دیکھ کر اسے حلال مانا- بلکہ ہندؤں کے مذہب میں تیوہاروں پر استعمال ہونے لگی- مذہبِ اسلام نے اس کے برے نتائج کی بنا پر اس سے روکا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عرب جیسے ملک سے شراب اور جوئے کو مٹانا بانی اسلام علیہ السلام کا ایک بڑا معجزہ ہے- کیونکہ وہاں شراب پانی کی طرح استعمال ہوتی تھی- بچوں کو گھٹی میں دی جاتی تھی- چونکہ اس کا ایک دم چھوڑ دینا ناممکن تھا اس لئے اس کی حرمت کے احکام آہستگی سے آئے- مکہ مکرمہ میں یہ آیت نازل ہوئی کہ:
ومن ثمرات النخيل والاعناب تتخذون منه…الخ(پ/١٤/ع/١٤
اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے کہ اس سے نبیذ بناتے ہو اور اچھا رزق بیشک اس میں نشانی ہے عقل والوں کو-
مسلمان عام طور پر پیتے رہے پھر مدینہ منورہ میں پہنچ کر حضرتِ عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ حضور شراب کے بارے میں کچھ خاص حکم دیجئے کہ یہ تو عقل و مال کو برباد کرنے والی ہے- تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:-
يسألونك عن الخمر و الميسر قل فيهما اثم كبير و منافع للناس واثمهما اكبر من نفعهما-
تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ ان میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کا کچھ دنیاوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے-( پ/2ع/10)
اس میں مسلمانوں کو اس سے کچھ نفرت دلائی گئی اس آیت سے ہی بعض لوگ شراب چھوڑ بیٹھے- مگر بہت سے پیتے رہے-
پھر ایک بار حضرتِ عبد الرحمن بن عوف رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے یہاں صحابہ کرام کی دعوت تھی- کھانے کے بعد شراب کا دور چلا اتنے میں نمازِ مغرب کا وقت آگیا-حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو امام بنایا آپ نے نماز میں سورہ کافرون پڑھی- مگر نشہ کی وجہ سے ہر جگہ لا اڑا گئے- یعنی اعبدو ما تعبدون پڑھ گئے تب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی-
لا تقربو الصلوة وانتم سكرى-
یعنی نشے میں نماز کے قریب مت جاؤ-
اس کے بعد شراب کا استعمال بہت کم ہوگیا لوگ یا تو عشاء کے بعد پیتے تھے یا فجر کے بعد کیونکہ ظہر سے عشاء تک لگاتار نمازوں کی وجہ سے انہیں شراب پینے کا موقع نہ ملتا تھا- پھر عتبان بن
مالک نے کچھ لوگوں کی دعوت کی جن میں سعد ابنِ ابی وقاص بھی تھے- کھانے کے بعد شراب پلائی گئی- نشے میں یہ لوگ آپس میں لڑپڑے اور زخمی ہوگئے- یہ مقدمہ بارگاہ نبوت میں پیش ہوا تب حضرتِ عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے دعا کی کہ مولی شراب کے متعلق پورا بیان نازل فرما تب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی::-
يا ايها الذين امنوا انما الخمر والميسر والنصاب والازلام رجس من عمل الشيطن فاجتنبوه لعلكم تفلحون.انما يريد الشيطن ان يوقع بينكم العداوة والبغضاء فى الخمر والميسر ويصدكم عن ذكر الله وعن الصلوة فهل انتم منتهون-
اے ایمان والوں شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللّٰہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے- شراب قطعاً حرام کردی گئی:
حضرتِ انس فرماتے ہیں کہ اس دن ہمارے گھر مسلمانوں کی دعوت تھی جس میں شراب کا دور چل رہا تھا ہمارے گھر میں بہت سے مٹکے شراب کے تھے کہ منادی کی آواز کان میں آئی- میرے والد نے کہا انس سن کر تو آؤ کیسی ندا ہے میں نے واپس آکر بتایا کہ شراب حرام ہونے کا اعلان ہے- یہ بات سن کر اہل مجلس کی یہ حالت ہوئی کہ جس کے ہاتھ میں جام تھا اس نے، جو مٹکے سے شراب انڈیل رہا تھا اس نے، وہی پیالہ توڑ دیا- جس کے منہ میں تھی اس نے وہی کلی کردی، جو منہ تک پیالہ لے گیا تھا اس نے وہی سے ہی واپس کرلیا، پھر میں نے ڈنڈے سے سارے مٹکے پھوڑ دئے-اس دن مدینے کی گلیوں میں بارش کے پانی کی طرح شراب بہتی تھی- سوکھ جانے پر بھی کئی ماہ تک زمین سے شراب کی بو آتی رہی-اس اطاعت کی دنیا میں مثال نہ ملے گی-
انگوری شراب حرام قطعی ہے اس کا منکر کافر ہے- اس کا کسی طرح بھی استعمال جائز نہیں جسم پر اس کی مالش بھی نہیں کر سکتے- اس کی تجارت بھی حرام ہے اس کی کوئی قیمت نہیں یعنی اس کے ضائع کرنے والے یا غصب کرنے والے پر تاوان واجب نہیں- یہ نجاست غلیظہ ہے- اس کے پینے والے کو اسی کوڑے مارے جائیں گے اگرچہ نشے کی حد سے کم ہی پئے-
حضرتِ علی المرتضیٰ کرم اللّٰہ تعالیٰ وجہ الکریم ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر اس کا ایک قطرہ کوئیں میں گر جائے پھر اس جگہ مینار بن جائے تو میں اس پر اذان نہ کہوں- اور اگر دریا میں گر جائے پھر خشک ہوکر وہاں کھانس جمے تو میں اپنے جانور کو نہ چراوں-شراب سے عقل جاتی رہتی ہے اور عقل ہی گناہ سے روکتی ہے- جب یہ نہ رہی تو انسان ہر برائی کر سکتا ہے- شراب ہی خدا کے ذکر سے روکتی ہے- اس سے آپس میں عداوت و بعض پیدا ہوتا ہے- بہت دفع شرابیوں میں کشت و خون بھی ہوجاتا ہے- شرابی شراب کے لئے چوری بھی کرتا ہے- اس سے صدہا قسم کی بیماریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں- یہ معدہ کو فاسد کرتی ہے- اسی لئے اسے ام الخبائث یعنی گناہوں کی جڑ کہتے ہیں-
یہی حال جوئے کا ہے کہ جبرا غیر کے مال پر قبضہ کیا جاتا ہے- جواری ہار کر چوری بھی کرتے ہیں – جواری بال بچوں کو پالنے کی پروہ نہیں کرتے- کبھی کبھی اپنے مکان بلکہ بیوی کو بھی ہار جاتے ہیں- کبھی ہارا ہوا جواری جیتنے والے کو قتل بھی کردیتا ہے جو عداوت کی جڑ ہے- خیال رہے کہ ہر دو طرفہ مالی ہار جیت جوا ہے-لہذا تاش، شطرنج، لاٹری، روپئے پیسے، اور پانسوں سے کھیلنا، سٹہ یہ سب جوا ہے اور حرام ہے-نیز شراب میں کچھ فائدے ہیں کہ اس سے لوگوں کے بیوپاری چلتے ہیں- مگر قوم و ملک اور دین کے نقصان بہت ہیں- جوئے شراب کا رواج قوم میں بربادی ملک میں فساد پیدا کرتاہے- اللّٰہ کے ذکر سے روکتا ہے- اور ہمیشہ شخص کو قوم و ملک دین پر قربان ہونا چاہئے جب قوم شخص پر قربان ہونے لگے تو تباہ ہو جائے گی- چور کے ہاتھ کاٹنا، زانی کو سنگسار کر دینا وغیرہ ان سب میں شخص کو قوم پر قربان کیا گیا ہے کہ ایک شخص کی بربادی قوم کی بربادی ہے- غرض اس کے نقصانات بے شمار ہیں- (تفسیر نعیمی)
شراب کا پینا سخت گناہ کبیرہ ہے- اور پینے والا فاسق و فاجر ناپاک بےباک مردود و نالائق مستحق عذاب شدید و عقاب الیم ہے- والعیاذ باللہ رب العالمین
رسولِ کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اس پر سخت سخت وعیدیں ہولناک تہدیدیں فرمائیں-
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ شراب پیتے وقت شرابی کا ایمان ٹھیک نہیں رہتا-
جو شخص شراب پینے کے لئے شیرہ نکالے اور جو نکلوائے،اور جو پئے،جو اٹھا کر لائے،اور جو اس کے پاس لائی جائے،اور جو پلائے،اور جو بیچے،اس کے دام کھائے،اور جو خریدے،اور جس کے لئے خریدی جائے،ان سب پر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے-
رسولِ کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو زنا کرے یا شراب پئے اللّٰہ تعالیٰ اس سے ایمان کھینچ لیتا ہے جیسے آدمی اپنے سر سے کرتا کھینچ لے-
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں تین شخص جنت میں نہ جائیں گے شرابی اور اپنے قریبی رشتہ داروں سے بدسلوکی کرنے والا اور جادو کی تصدیق کرنے والا- اور جو شرابی بے توبہ مرجائے اللّٰہ تعالیٰ اسے وہ خون اور پیپ پلائے گا- جو دوزخ میں فاحشہ عورتوں کی بری جگہ سے اس قدر بہے گا ایک ایک نہر ہو جائے گی- دوزخیوں کو ان کی فرج کی بدبو عذاب پر عذاب ہوگی وہ سخت بدبو گندی پیپ جو بدکار عورتوں کی فرج سے بہے گا اس شرابی کو پینا پڑے گی- والعیاذ باللہ تعالیٰ
مسلمانوں ذرا آنکھیں بند کر کے غور کرو کہ شراب چھوڑنا قبول ہے یا اس پیپ کے گھونٹ نگلنا-
حضرتِ عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں شراب سے بچو کہ گزشتہ زمانے میں ایک شخص عابد تھا اور لوگوں سے الگ رہتا تھا ایک عورت اس پر فریفتہ ہو گئی اس نے اس کے پاس ایک خادمہ کو بھیجا کہ گواہی کے لئے اسے بلاکر لاؤ- وہ بلاکر لائ- جب وہ مکان کے دروازے میں داخل ہوتا گیا خادمہ بند کرتی گئی- جب اندر کے مکان میں پہنچا دیکھا کہ ایک خوبصورت عورت بیٹھی ہے اور اس کے پاس ایک لڑکا ہے اور ایک برتن میں شراب ہے اس عورت نے کہا میں نے تجھے گواہی کے لئے نہیں بلایا ہے بلکہ اس کے لئے بلایا ہے کہ یا اس لڑکے کو قتل کر یا مجھ سے زنا کر یا شراب کا ایک پیالہ پی اگر تو ان باتوں سے انکار کرتا ہے تو میں شور کروں گی اور تجھے رسوا کردوں گی- جب اس نے دیکھا کہ مجھے ناچار کچھ کرنا ہی پڑے گا کہا ایک پیالہ شراب کا مجھے پلا دے جب ایک پیالہ پی چکا تو کہنے لگا کہ اور دے جب خوب پی چکا تو زنا بھی کیا اور لڑکے کو قتل بھی کیا-
لہذا! شراب سے بچو خدا کی قسم ایمان اور شراب کی مداومت مرد کے سینے میں جمع نہیں ہوتے قریب ہے کہ ان میں کا ایک دوسرے کو نکال دے (بہار شریعت) مضمون میں شروع سے آخیر تک شراب کی علتیں بیان کی گئیں اس کی خرابیاں بیان کی گئیں اس سے بچنے کی تاکید کی گئی لیکن سرحد پار کے ایک شاعر اپنے دو مصرعوں میں اس کی ایک علت بیان کی ہے وہ کہتے ہیں کہ
نشے کی علت حرمت میں یہ بھی تھا پہلو
کہ پل صراط پہ مومن نہ لڑکھڑا کر چلیں

Related posts

تعلیمات مشائخ ، ہم اور ہمارے علما

cradmin

تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ : ہماری جانیں اور ہمارا سب کچھ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو پر قربان ہے

cradmin

قرآن کی ہدایت و رہنمائی

cradmin

Leave a Comment