alwatantimes
Image default
بہار

مسلم لڑکیوں کا ارتداد ایک تشویشناک پہلو:مولانامحمدشبلی القاسمی

مدھوبنی:امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا سہیل احمد ندوی کی قیادت میں امارت شرعیہ کا ایک باوقار وفد مدہوبنی ضلع کے مختلف علاقہ جات کا دورہ کر رہا ہے، اس وفد میں قائد وفد کے علاوہ امارت شرعیہ مدہوبنی کے قاضی شریعت مولانا رضوان احمد صاحب مظاہری، دارالعلوم اسلامیہ امارت شرعیہ کے شیخ الحدیث مفتی شکیل احمد صاحب قاسمی،دارالعلوم کے ناظم تعلیمات مفتی تبریز عالم قاسمی،اور دارالعلوم امارت شرعیہ کے استاد مولانا و مفتی آفتاب عالم قاسمی صاحب، شعبہ تنظیم کے خادم مولانا ارشاد رحمانی ومولانا زین الحق صاحب قاسمی شامل ہیں ۔کل بعد نماز ظہر اگاڑی میں اور بعد نماز مغرب یکہتہ میں وفد کا پروگرام منعقد ہوا،یکہتہ کے پروگرام میں امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم حضرت مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب کی شرکت ہوئی۔مولانا نے فرمایا کہ اس وقت پورے ہندوستان میں آر اس اس کی حلیف ذیلی تنظیموں کے ذریعہ مسلم لڑکیوں کو مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکے غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرنے پر اکسایا جاتا ہے، اس مہم میں کامیاب لڑکوں کو خطیر رقم دی جاتی ہے؛ تاکہ وہ انہیں لبھانے، محبت کے جال میں پھنسانے اور اپنے بستر تک لے جانے میں کامیاب ہوجائیں، ملک کے مختلف حصوں اور بہار کے بہت سارے اضلاع سے اس قسم کی تشویشناک، المناک اور پریشان کن خبر ہر دن موصول ہو رہی ہے، اس طرح ان لڑکیوں کو دین وایمان سے بے زار کرکے ہندو مذہب میں داخل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ہماری لڑکیاں ان کے جال میں جن وجوہات سے پھنستی ہیں، ان میں ایک بڑا سبب اختلاط مرد وزن ہے، یہ اختلاط تعلیمی سطح پر بھی ہے اور ملازمت کی سطح پر بھی، کوچنگ کلاسز میں بھی پایا جاتا ہے اور ہوسٹلز میں بھی، موبائل انٹرنیٹ، سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ اختلاط زمان ومکان کے حدود وقیود سے بھی آزاد ہو گیا ہے، پیغام بھیجنے اور موصول کرنے کی مفت سہولت نے اسے اس قدر بڑھا وا دے دیا ہے کہ لڑکے لڑکیوں کی خلوت گاہیں ہی نہیں جلوت بھی بے حیائی، عریانیت کا آئینہ خانہ بن گئی ہیں، یہ اختلاط اور ارتباط آگے بڑھتا ہے تو ہوسناکی تک نوبت پہونچتی ہے، جسے محبت کے حسین خول میں رکھ کر پیش کیا جاتا ہے، والدین اور گارجین یا تو اتنے سیدھے ہیں کہ انہیں لڑکے لڑکیوں کے بے راہ روی کا ادراک ہی نہیں، یا اتنے بزدل ہیں کہ وہ لڑکے لڑکیوں کی بے راہ روی پر اپنی زبانیں بند رکھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں، یا تلک جہیز کی بڑھتی ہوئی لعنت، شادی کے کثیر اخراجات کے خوف سے اسی میں عافیت سمجھتے ہیں کہ لڑکیاں اپنا شوہر خود تلاش لیں، کورٹ میریج کرلیں؛ تاکہ یہ درد سر ان سے دور ہوجائے، ان خیالات کے پیچھے ان کی غربت اور دینی تعلیم وتربیت سے دوری کا بڑا دخل ہوتا ہے، اگر بنیادی دینی تعلیم وتربیت والدین اور لڑکے لڑکیوں کے پاس بھی ہو تو انہیں اس کا ہرپل احساس ہوگا کہ غربت اور شادی کے حوالے سے پریشانیاں وقتی ہیں اور ایمان چلے جانے کی صورت میں آخرت کا عذاب حتمی اور لازمی ہے تو شاید ان کے لیے ان وقتی پریشانیوں کو جھیل جانا آسان ہوجائے۔ اس موقع پر قائد وفد مولانا سہیل احمد ندوی نائب ناظم نے فرمایا:کہ مل جل کر رہنے اور اکٹھے زندگی گزارنے کا نام معاشرہ ہے، اسلامی تعلیمات کے آنے سے پہلے بھی لوگ مل جل کر رہتے تھے۔ زمین کے مختلف حصوں میں لوگ مختلف طریقوں سے زندگی گزارا کرتے تھے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو مسلم معاشرہ کی ایسی خصوصیات عطا فرمائیں کہ جن سے انسان کو محض اپنے زندہ رہنے کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی میں مکمل طور پر شریک ہونے کی تعلیم ملتی ہے۔مفتی افتاب عالم قاسمی نے کہا کہ اپنے بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کا انتظام کریں،اگر ہم نے اپنے بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کا انتظام نہیں کیا،تو پتہ نہیں ہمارے بچے ایمان پر باقی رہیں یا نہ رہیں۔۔جس طرح نماز پڑھنا فرض ہے،اور اگر کوئی نماز نہ پڑھے تو گنہ گار ہوتا ہے،اسی طرح اپنے بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کرنا فرض ہے،اگر ہم اس کی تربیت نہیں کریں گے تو ہم گنہ گار ہوں گے۔۔۔۔اس موقع پر مفتی تبریز عالم قاسمی صاحب نے کہا کہ دنیا میں اللہ تعالی نے انسانوں کو امتحان اور آزمائش کے لیے بھیجا ہے دنیا کی زندگی عارضی زندگی ہے اصل زندگی آخرت کی ہے، اسی لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ آخرت کے احوال سے باخبر کرتے رہے تاکہ لوگ آخرت کی تیاری اور اس کی فکر میں مصروف رہیں۔ لیکن آج ہم دنیا کی محبت میں اتنے گرفتار ہو چکے ہیں کہ ہم نے آخرت کو بالکل بھلا ہی دیا ہے۔ ٹھیک ہے اللہ تعالی نے ہمیں دنیا میں نعمتیں دے رکھی ہیں لیکن دنیا کی نعمتیں فانی ہیں، سب ختم ہو جائیں گی اور آخرت کی نعمتیں ہمیشہ ہمیش رہیں گی کبھی ختم نہیں ہوں گی۔مفتی شکیل احمد صاحب قاسمی نے کہا کہ قرآن کریم کی تلاوت اور اُس کا یاد کرنا جہاں انسان کے لیے ثواب و برکت کا موجب ہے وہیں محبت اور خلوص کے ساتھ تلاوت کرنے والے، فرشتوں کی دعاؤں سےحصہ پاتے ہیں۔ اسی طرح احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ قیامت کےدن قرآن شریف خود بھی صاحبِ قرآن کے لیے اپنے ربّ سے سفارش کرے گاکہ اُسے عزت کا جوڑا اور عزت کا تاج پہنایا جائے۔ قرآن اپنے ربّ کے حضور عرض کرے گا تو اس سے راضی ہوجا اور پھر اُس سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جااور سیڑھیاں چڑھتا جا یعنی اُسے ہر ایک آیت کے بدلے نیکیاں ملیں گی اور اُس کے درجات بلند کیے جائیں گے۔ مولانا زین الحق صاحب مبلغ امارت شرعیہ نے پروگرام کی نظامت فرمائی،اور مولانا ارشاد رحمانی نے امارت شرعیہ کا بھرپور تعارف کروایا۔ اور استحکام بیت المال کے لیے پوری محنت کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اللہ اس دورہ کو کامیاب فرمائے آمین

 

 

Related posts

بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کامقابلہ قانونی ،سماجی اورعملی طورپرکیاجائے:آل انڈیا ملی کونسل

alwatantimes

خدمت خلق ایمان کا ایک اہم حصہ ہے ، بلاتفریق انسانیت کی خدمت جمعیۃ علماء کا اولین مقصد: مولانا ابرار الحق قاسمی

alwatantimes

ریاست کے خزانے پر سب سے پہلا حق آفت زدگان کاہے:نتیش

alwatantimes

Leave a Comment