alwatantimes
Image default
قومی

یوپی اسمبلی انتخابات:چوتھے مرحلے کی تیاریاں مکمل،ووٹنگ آج

لکھنؤ:اترپردیش میں چوتھے مرحلے کے تحت 9اضلاع کی 59سیٹوں پر بدھ کو ہونے والی ووٹنگ کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ رائے دہندگان 7تا شام6بجے کے درمیان اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں گے۔چوتھے مرحلے کے تحت جن 9اضلاع میں ووٹ ڈالے جائیں گے ان میں پیلی بھیت، لکھیم پور کھیری، سیتا پور، ہردوئی، اناؤ، لکھنؤ، رائے بریلی، باندہ اور فتحپور شامل ہیں۔چیف الیکشن افسر اجئے کمار شکلا نے منگل کو کہا کہ 2.13کروڑ ووٹر بشمول 1.14کروڑ مرد اور99لاکھ خواتین 624امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کریں گے اس میں 91خاتون امیدوار بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ووٹنگ 13817پولنگ اسٹیشنوں کے 24634پولنگ بوتھ پر منعقد ہوگی۔اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس(لااینڈ آرڈر) پرشانت کمار نے کہا کہ اس مرحلے میں تین اسمبلی حلقوں حسن گنج، بندکی اور فتح پورکو حساس زمرے میں رکھا گیا ہے۔جب کہ 3393پولنگ بوتھوں کا کافی حساس پولنگ بوتھوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 137پنک پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں جہاں پر 36خاتون انسپکٹر یا سب انسپکٹر اور 277کانسٹیبل یا ہیڈ کانسٹیبل تعینات کئے گئے ہیں۔اس مرحلے میں پولنگ اسٹیشنوں میں سنٹرل فورسز کی 800.50کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔کمار نے بتایا کہ یوپی پولیس کے 7022انسپکٹر یا سب انسپکٹر، 58132کانسٹیبل یا ہیڈ کانسٹیبل ،21کمپنی پی اے سی،50490ہوم گارڈس،1850پی آر ڈی جوان اور 8486چوکیدار ڈیوٹی پر تعینات کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس مرحلے میں ابھی تک ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے پاداش میں 142قابل دست اندازی اور 76ناقابل دست انداز معاملے درج کئے گئے ہیں۔علاوہ ازیں کووڈ پروٹوکول کی خلاف ورزی میں 36معاملات درج کئے گئے ہیں۔اے ڈی جی نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت پر عمل درآمد کرتے ہوئے بدھ کوووٹنگ والے تمام اضلاع کی شراب کی دوکانیں بند اور سرحد سیل کردی گئی ہیں۔پہلے تین مراحل میں مغربی اترپردیش اور بندیل کھنڈ میں انتخابات ہونے کے بعد اب ووٹنگ کا عمل چوتھے مرحلے میں اودھ علاقے سے ہوتے ہوئے پانچویں مرحلے میں پوروانچل میں دستک دے رہا۔حکمراں جماعت بی جے پی اور مین اپوزیشن سماج وادی پارٹی(ایس پی)، بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) اور کانگریس سمیت دیگر پارٹیوں نے پوری شدو مد کے ساتھ انتخابی مہم چلائی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی، وفاقی وزیر امت شاہ، بی جے پی صدر جے پی نڈا،وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ،ایس پی صدر اکھلیش یادو، بی ایس پی سپریمو مایاوتی اور کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اپنے اپنے امیدواروں کی حمایت میں عوامی ریلیوں سے خطاب کیا۔اس مرحلے میں یوگی حکومت کے دو وزراء کے علاوہ 3 مرکزی وزراء کا وقار داؤ پر ہے۔ لکھنؤ سے ایم پی ہونے کے ناطے و وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ ریاستی راجدھانی کی تمام سیٹوں پر پارٹی امیدواروں کی جیت کو یقینی بنائیں۔عام خیال ہے کہ لکھنؤ میں تمام امیدواروں کو ان کی رضا مندی کے ساتھ انتخابی میدان میں اتارا گیا ہے۔وہیں دوسری جانب وفاق وزیر اسمرتی ایرانی کے کندھوں رائے بریلی اور امیٹھی کی ذمہ داری ہے ۔سابقہ انتخابات میں گاندھی کنبے کا رسوخ والے اس علاقے میں بی جے پی نے نقب زنی کی تھی۔دوسری طرف لکھیم پور سے ایم پی و مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا ٹینی پر بھی سبھی کی توجہ مرکوز ہے۔جن کا بیٹا آشیش مشرا مونو ضلع میں پیش آئے تکونیا واقعہ کا کلیدی ملزم ہے جس میں چار کسانوں کو گاڑیوں سے روند دیا گیا تھا۔اس واقعہ کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی کے خلاف محاذ آرائی کرتے ہوئے ٹینی کو وزارت سے برخاست کرنے کا پرزور مطالبہ کیا تھا۔اگرچہ بی جے پی لیڈروں نے اس واقعہ کے اثر کو کم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن یہ اب بھی یوپی کے ترائی بیلٹ میں بی جے پی کے لئے ایک چیلنج ہے جس میں پیلی بھیت بھی شامل ہے۔سیاسی ماہرین کے مطابق مشرا کی ضمانت کے بعد ایک بار پھر اپوزیشن کو بی جے پی کو گھیرنے کا موقع مل گیا ہے۔وہیں یوگی حکومت میں وزیر قانون برجیش پاٹھک لکھنو کینٹ سے و شہری ترقیات کے وزیر آشوتوش ٹنڈن لکھنؤ مشرق سے انتخابی میدان میں ہیں۔اس الیکشن میں پاٹھک کی سیٹ کو تبدیل کر کے انہیں کینٹ سے امیدوار بنایا گیا ہے۔جو کی بی جے پی کی رسوخ والی سیٹ سمجھی جاتی ہے۔اس سیٹ پر ایس پی کے انوراگ بھدوریا انہیں چیلنج دے رہے ہیں۔لکھنؤ کی سروجنی نگر سیٹ سے سابق ڈائرکٹر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ راجیشور سنگھ بی جے پی کے امیدوار ہیں۔ اس سیٹ پر ان کا مقابلہ ایس پی کے ابھیشیک مشرا سے ہے۔اس کے علاوہ ایس پی نے موہن لال گنج سے سابق ایم پی سشیلا سروج کو ملیح آباد سیٹ سے اتارا ہے۔
اس مرحلے کے دیگر اہم چہروں میں کانگریس کی باغی لیڈر ادتی سنگھ بی جے پی کے ٹکٹ سے رائے بریلی صدر سے انتخابی میدان میں ہیں اسی طرح سے ایک دیگر کانگریس باغ راکیش سنگھ ہرچندپور سے بی جے پی کے امیدوار ہیں۔وہیں ایس پی سے بی جے پی میں آئے یو پی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نتن اگروال ہردوئی سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔سال 2017 کے انتخابات میں 59سیٹوں میں سے بی جے پی نے 50سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔جبکہ اس پی کے کھاتے میں 4، بی ایس پی اور کانگریس کے کھاتے میں دو۔دو اور اپنا دل کے ایک امیدوار نے جیت پر پرچم لہرایا تھا۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بی جے پی نے اس خطے میں اپنی اس سبقت کو برقرار رکھنے کے لئے سخت پسینہ بہایا ہے لیکن ایس پی۔ بی ایس پی اور کانگریس نے بھی پوری شدومد کے ساتھ رائے دہندگان کی توجہ اپنی جانب مرکوز کی ہےساتھ ہی عام آدمی پارٹی کی انٹری نے اس مرحلے میں شہری علاقوں کے مقابلے کو مزید دلچسپ بنادیا ہے۔چوتھے مرحلے جن 59سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے ان میں سے 16سیٹیں ایس سی سماج کے لئے محفوظ ہیں۔

Related posts

معجزہ قرآن

cradmin

ترقی میں ریزرویشن:سپریم کورٹ نے معیار میں رعایت دینے سے کیا انکار

alwatantimes

تعلیم کے ذریعہ ہی ترقی کے منازل طے ہو سکتے ہیں:حضرت امیر شریعت

alwatantimes

Leave a Comment