alwatantimes
Image default
بہار

صحافی خورشید انور عارفی کے انتقال دانشوران کا اظہار تعزیت

پٹنہ:معروف صحافی اور کئی کتابوں کے مصنف خورشید انور عارفی کے انتقال پر اداراروں اور صحافی برادری میں غم کی لہر ہے ۔اور تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ عثمان غنی گرلز انسٹی ٹیوٹ میں مرحوم کے لیے تعزیتی نشست میں امارت شرعیہ کے ناظم مولانا شبلی قاسمی، انسٹی ٹیوٹ کے سیکریٹری انعام خان، وائس چیئرمین محمد نوشاد انصاری، عرفان اور اساتذہ میں روپا شرما، نزہت صاحبہ، روبی نشاط اور نْور نے مرحوم کے خدمات کو نم آنکھوں کے ساتھ یاد کیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا۔چیف سکریٹری رینگ سے سبکدوش آئی اے ایس آفیسر ڈاکٹر ایم اے ابراہیمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ خورشید انوار عارفی سے کافی قریب تھا۔ میں ان کے بھائی ہارون عارفی ریٹائرڈآئی اے ایس کے بھی قریب ہوں۔ ان کے بچے خاندان میں شادی شدہ ہیں اور لندن اور امریکہ میں آباد ہیں۔ خورشید عارفی مرحوم ہمیشہ سماجی خدمات میں مصروف رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے اور لواحقین کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اردو مشاورتی کمیٹی کے سابق چیرمین شفیع مشہدی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ملت نے ایک اہم شخصیت کھو دی اورایک بہترین انسان سےہم محروم ہو گئے۔میرے ان کے ذاتی گہرے تعلقات تھے۔اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔ انجمن تحفظ اردو، گیا کے صدر فیاض حالی ایڈووکیٹ نے کہا کہ مرحوم عارفی نہایت نفیس انسان تھے اور اخلاقی قدروں اور سماجی تقاضوں کا خیال رکھتے تھے۔ ان کے انتقال سے ملت نے ایک اہم ترین شخصیت کھودیا ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت(بہار چیپٹر) کے صدر و سابق وزیر شمائل نبی نے کہا کہ مرحوم خورشید انور عارفی مشاورت کے فعال رکن تھے اور ملّی مسائل پر سرپرستی ہمیشہ حاصل رہتی تھی۔میرے ان سے گہرے تعلقات تھے۔ ہم لوگوں نے ساتھ مل کر کئی اہم ملی کام بھی کئے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز پٹنہ چیپٹر کے اعزازی ڈائریکٹر سید فضل رب نے بھی اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحوم عارفی پٹنہ کے ملی دانشوروں میں اپنی ممتاز اور منفرد حیثیت رکھتے تھے۔ انکی کتاب آئی او ایس کے بینر سے بھی چھپی ہے۔ میرے ساتھ انکے گہرے مراسم تھے۔ اللہ انکو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ جمعیت علماء بہا ر کے ناظم نشر واشاعت ڈاکٹر انوارالہدیٰ نے کہاکہ مرحوم عارفی ہمیشہ ملی کاموں میں آگے آگے رہتے اور جب کبھی کوئی پروگرام ہوتا وہ بہ نفس نفیس موجود ہوتے۔ جمعیت کے کاز سے بھی اتفاق رکھتے تھے۔ جمعیت کے بڑے جلسوں میں انکی حاضری ہوتی تھی۔ وہ مجھ کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انکو غریق رحمت کرے۔ انکے انتقال پر تعزیت کرنے والوں میں مظہر عالم مخدومی، جاوید محمود، آفتاب نبی، اشرف استھانوی، حقانی القاسمی،سید احمد قادری، محفوظ رشید، منصور احمد اعجازی، محمد نور عالم، مرغوب اثر فاطمی، عبد الواحد ندوی، عمران صغیر، ڈاکٹر ارشد ایس حق، حبیب مرشد خاں، ڈاکٹر ابو بکر رضوی، کانگریسی لیڈر انتخاب عالم، شکیل الرحمان، مولانا عالم قاسمی، سید محمد جلیل، شریف قریشی، اقبال شیرازی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

Related posts

بیداری اور بروقت جانچ سے وبا کے وقت بھی دل کی شریانوں کی بیماری کے خطرات سے بچا جا سکتا ہے: ڈاکٹر منوج کمار

alwatantimes

نشے میں دھت موٹر سائیکل سوار نے خاتون کوماری ٹکر ،موقع پر ہی موت

alwatantimes

پہلی بار پوری ریاست میں پرندوں کی مردم شماری، مارچ میں آئے گی رپورٹ

alwatantimes

Leave a Comment