alwatantimes
Image default
بہار

قیمتیں بڑھنے سے لوگوں کے مسائل کچھ بڑھ جاتے ہیں:نتیش

پٹنہ:’جنتا کے دربار میں وزیر اعلیٰ پروگرام‘کے اختتام کے بعد وزیر اعلیٰ نے صحافیوں سے بات کی۔ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے تعلق سے میڈیا کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہاکہ پٹرول ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے کچھ مہینہ قبل ہی راحت دی تھی۔ ریاستی حکومت کے پاس اتنا وسائل نہیں کہ اس کو لے کر فوری کچھ کہہ دیا جائے۔ یہ پورے ملک کا معاملہ ہے۔ پٹرول ڈیزل کی بڑھتی قیمت کے سلسلہ میں پہلے بھی مرکزی حکومت پہلے فیصلہ کیا اور ریاستوں کو بھی ایسا کر نے کو کہا۔ اس سلسلہ میںبہار سمیت کئی ریاستی سرکاروں نے بھی فیصلہ کیا۔ پٹرول ڈیزل کی قیمت ایک مرتبہ پھر بڑھ رہی ہے تو اس بارے میں آئندہ فیصلہ کیا جائے گا۔ ابھی ایسی حالت نہیں ہے کہ فوری اس پر کوئی فیصلہ کیا جائے۔ اگر قیمتیں بڑھ رہی ہیںتو مرکزی حکومت ضرور اس پر سوچے گی۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ پٹرول،ڈیزل قیمتیں بڑھتی ہی رہیں گی یا پھر کم ہوں گی۔ اس بارے میں مرکز کی جانب سے ہی تما م باتیں سامنے آئیں گی۔ قیمت بڑھنے سے لوگوں کے مسائل کچھ بڑھ جاتے ہیں۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ کچھ دنوں کے بعد پٹرول کی قیمت نارمل ہو۔ اس بارے میں فی الحال کچھ بھی کہنا ممکن نہیں ہے۔کرونا سے کے سبب موت ہوجانے والے لوگوں کے اہل خانہ کو معاوضہ اور خصوصی سہولت دیے جانے کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سال 2020 میں جب کورونا سے لوگوں کی موت ہو نے لگی اس وقت اپریل کے مہینے میں ہم لوگوں نے 4لاکھ روپے معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی وقت سے معاوضہ دیا جا رہا ہے۔اس کے بعد جب مرکزی حکومت کی جانب سے 50ہزار روپے دیے جانے کا اعلان ہوا تو بہار میں 4لاکھ کے علاوہ مزید 50ہزاردیے جارہے ہیں۔ صحت محکمہ اس بار میں بیچ بیچ میں نگرانی کر تا ہے کہ معاوضہ کی رقم کی ادائیگی ہو نے سے کوئی محروم تو نہیں رہا ہے۔ جو محروم ہو تے ہیں ان کو معاوضہ کی رقم ادا کر نے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ آج مجھے کئی لوگوں نے بتا یا کہ میرے کنبہ میں کورونا سے موت ہوئی لیکن معاوضہ کی رقم نہیں ملی ہے۔ صحت محکمہ ان سب چیزوں کو دیکھے گا تاکہ کوئی معاوضہ کی رقم سے محروم نہ رہے۔ہم لوگوں کی کو شش ہے کہ کورونا سے متاثر ہو کر مرنے والوں کے اہل خانہ کو 4.50لاکھ روپے کی مدد رقم ضرورملے۔یہ عمل مسلسل جاری رہیگا۔ کورونا کی پہلے جیسی سنگین حالت اب نہیں ہے۔ کورونا کے تیسرے دور کے وقت اس کا اثر کم تھا اور یہ دور بہت جلد ختم ہو گیا۔ بہار میں بڑی تعداد میں کرونا کی ٹسٹنگ ہو رہی ہے۔ ملک کے اوسط سے زیادہ کورونا کی ٹسٹنگ بہار میں ہور ہی ہے۔ فی 10لاکھ کی آبادی پر اوسطا ٹسٹنگ بہار میں زیادہ ہو رہی ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے کورونا ٹسٹنگ کو لیکر مسلسل لوگوں کو ترغیب دی جارہی ہے۔ بہار میں بہت لوگوں کی ٹیکا کاری کی گئی ہے۔ کورونا کے علاج میں بھی کہیں کوئی دقت نہیں ہے۔ کورونا کو لے کر لوگوں کو الرٹ کیا جاتا ہے کہ کورونا سے متعلق کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو فوری اسپتال میں جاکر اس کا علاج کرائیں۔ کورونا کے تئیں ابھی لوگ مطمئن ہو گئے ہیں،لیکن کہیں کہیں کرونا کے معاملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے لیے سب کو الرٹ رہنا پڑے گا۔ ابھی وزیر اعظم جی کا بھی بیان آیا گیا ہے کہ کرونا سے ابھی سب کو الرٹ رہنا ہے۔ نہیں تو خطرہ ہوسکتا ہے۔ سب کو الرٹ رہنے کی ضروت ہے۔ یہ بہت ضروری ہے۔ کورونا کے تئیں ہم لوگوں کی تیاری مسلسل ہے۔ کورونا کی ٹسٹنگ کے تعلق سے ہم لوگ الرٹ ہیں۔ یومیہ اس ک رپورٹ میرے پاس آتی ہے،کچھ دنوں قبل پٹنہ میں کم ٹسٹنگ ہو رہی تھی ہم نے ٹسٹنگ میں اضافہ کر نے کی ہدایت دی۔
پارلیمنٹ میں پاس ’کرمنل ایڈنٹیفکیشن قانون‘ کے غلط استعمال سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کا حق ہے۔ قانون بنا نے کا حق مرکزی حکومت کا ہے اور پارلیمنٹ کا ہے۔ جو قانون بنا ہے اس قانون کے مطابق کر نا ہی ہے۔ جہاں تک کوئی سوال کی بات ہے کہ اس کا صحیح طریقہ سے استعمال نہیں ہور ہا ہے تو اس پر پولیس اور انتظامیہ کے لوگ توجہ دیں گے۔ ابھی قانون میں ترمیم کی بات آئی ہے تو اس کا گائیڈ لائن اور اس کی مکمل ہدایت جاری ہو گی۔ اس کے بعد ہر ریاست اپنے اپنے طریقہ سے کرے گی۔ ہم لوگ بھی جو بھی کر نا ہے اس کو دیکھیں گے۔ آج کل نئی ٹیکنا لوجی آگئی ہے، نئے نئے ضابطے ہیں۔ کوئی جرم کر تا ہے تو اس کے بارے میں پوری جانکاری رکھنی ہی چاہئے۔ اس سے یہ پتہ چلے گا کہ کوئی گڑبڑی تو نہیں ر رہا ہے۔آج کل جیلوں کی بھی حالت دیکھ ہی رہے ہیں۔ یہ آج سے نہیں ہے، یہ انگریز کے زمانہ سے ہے۔ جیل میں بھی کوئی نہ کو ئی ادھر سے ادھر کچھ نہ کچھ کر تا رہتا ہے، تو بہت طرح کی بات ہو تی ہے۔ انتظامیہ کے لوگ درمیان میں جا کر دیکھتے ہیں تو پکڑے جاتے ہیں۔ باقی وقت میں پھر کچھ نہ کچھ کر تا ہے۔ اس کے بارے میں جو قانون انہوں نے بنا یا ہے،ترمیم کیا ہے تو یہ مرکزی حکومت کا حق ہے۔ یہ انہیں کے دائرہ اختیار کی بات ہے۔ یہ ریاست کی بات نہیں ہے، جو ایکٹ بنے گا وہ پورے ملک کا بنے گا۔ اس لیے جو ایکٹ بنا ہے اس کے مطابق بات ہوگی۔دریائے گنگا کی صفائی سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم اس میں لگے ہوئے ہیں، ہم اس کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ بچپن میں ہم بختیار پور گنگا میں نہانے جاتے تھے، وہاں سے پینے کے لیے پانی لاتے تھے۔ ہر طرف سے گندے پانی کے بہاؤ کی وجہ سے آج کل گنگا کے پانی میں مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ ہم نے جائزہ لیا ہے کہ کہیں سے گندا پانی گنگا میں نہ جائے تاکہ اس پر تیزی سے کام کیا جاسکے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پانی میں کوئی خلل نہ پڑے اور پانی صاف ہو۔ ہم نے گنگا کے پانی کو تین سے چار مقامات تک لے جانے کا منصوبہ بنایا ہے اور کام تیزی سے جاری ہے۔ بارش کے موسم میں گنگا کا پانی تین سے چار مقامات پر چار مہینوں تک ذخیرہ کیا جائے گا، جسے صاف کرکے پینے کے پانی کے طور پر فراہم کیا جائے گا۔ بودھ گیا، گیا، راجگیر اور نوادہ میں پانی کا مسئلہ ہے، اس لیے ان تمام جگہوں کے لیے یہ کام کیا جا رہا ہے۔ لوگ اتنے نیچے سے پانی نکال رہے ہیں، اگر اس سے چھٹکارا مل جائے تو پانی کا لیبل ٹھیک ہو جائے گا۔ ابھی کچھ جگہوں پر شروع کیا گیا ہے، اگر یہ کامیاب ہوا تو مستقبل میں پٹنہ کے لیے بھی اس کا انتظام کیا جائے گا۔
مرکزی سیاست میں شمولیت کے حوالے سے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان باتوں کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم نجی دورے پر جا رہے ہیں۔ ہم 16 سال سے ریاست کی خدمت کر رہے ہیں۔ جن لوگوں نے بہت پہلے ہمارا ساتھ دیا ہے، ہم نے محسوس کیا کہ جن لوگوں نے یہاں تک پہنچایا، ایم پی بنایا، جاکر ان سے ملاقات کروں ۔ ہم پورے بہار کے لیے کام کرتے ہیں۔لیکن میری خواہش تھی کہ ہم ایک بار جا کر ان سے ملیں۔ درمیان میں کورونا کا تیسرا دورآگیا تھا جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ ہم چلچلاتی گرمی میں بھی سفر کر رہے ہیں۔ ہم اپنا سارا کام کرتے رہتے ہیں اور اسی کے ساتھ دورہ کرتےرہتے ہیں۔ سفر کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کی بڑی تعداد سے ملاقات کرتے ہیں۔ لوگ بھی خوش ہیں، ہمیں بھی اچھا لگتا ہے۔ کچھ لوگ اس میں اپنے مسائل بھی بتاتے ہیں، ہم سب کی باتیں سنتے ہیں۔ کسی بھی علاقے کی ترقی کے لیے کوئی اور معاملہ سامنے آتا ہے تو دیکھتے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ ہم کتنا آگے بڑھ رہے ہیں۔ آپ میں سے کچھ لوگ وہاں بھی جائیں، ان سے پوچھیں کہ کتنے لوگوں سے ملتے ہیں، کتنا وقت لگتا ہے، لوگ شدید گرمی میں بھی کھڑے ہیں۔ ہم مل کر کام کر رہے ہیں، یہ سب باتیں بیکار ہیں۔ ہم نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ کون کیا اور کہاں کی باتیں کرتا رہتا ہے۔ ان سب باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔ ان سب کو نظر انداز کریں، یہ کوئی خاص بات نہیں ہے۔کانگریس پارٹی کے لیڈر مسٹر راہل گاندھی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ انہیں اقتدار میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اپنی پارٹی چلانا ان کا کام ہے۔ اپنی پارٹی کے بارے میں کوئی کیا سوچتا ہے اس میں ہم کیا دخل دیں۔ وہ جو کام کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔جس کو جو دل میں آئے وہ کرے۔ میرا اس پر کوئی ردعمل نہیں ہے۔ جو چاہے اپنی پارٹی کے بارے میں جو چاہے کرے، اس میں ہم کیا تبصرہ کریں گے۔ ذات پر مبنی مردم شماری کے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری آپس میں بات چیت ہوئی، سب مصروف تھے۔ ہم پہلے ہی اس کے بارے میں بات کر چکے ہیں۔

Related posts

بہار میں سڑکوں کی محکمہ سڑک تعمیرات نے 10 سڑکوں کو اپنی نگرانی میں لیا، تعمیر اور دیکھ بھال کا کام شروع ہوگا

alwatantimes

بہار نے 237691.19 کروڑ کا بجٹ پیش کیا

alwatantimes

بچوں کے دست کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں محکمہ صحت بیدار : منگل

alwatantimes

Leave a Comment