alwatantimes
Image default
سياسات مضمون

دہلی کی جہانگیر پوری:اب بھی اگر نوشتۂ دیوار پڑھ سکو

اے رحمان ایڈوکیٹ
انگریزی لغت میں بُل ڈوز لفظ (فعل) کے معنی ہیں تعمیرات اور پیڑوں وغیرہ کا بھاری مشینری (یعنی بل ڈوزر) کی مدد سے مکمل صفایا کر کے میدان ہموار کر دینا۔محاوراتی پہلو سے یہ لفظ اپنے مقصد کے حصول کے واسطےقوت کےبیدردانہ استعمال کے معنی میں بیان ہوتا ہے۔موجودہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی استعاراتی معنی میں مسلمانوں کے حقوق اور اداروں کو بلڈوز کرنا شروع کر دیاتھا لیکن پھر یوپی کے وزیر اعلیٰ نےبعض ’مجرمان‘ کے خلاف ’’جیسے کو تیسا‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے بلڈوزر کا عملی استعمال کر کے ان کے گھروں اور جائیدادوں کو (قطعی غیر قانونی طریقے سے) مسمار کر کے ستم کی ایک نئی روایت قائم کی جو اب دلّی پہنچ گئی ہے۔جہانگیر پوری میں جو کچھ ہوااس پر مجھے نہ افسوس ہے نہ حیرت۔ افسوس تو اس لئے نہیں ہے کہ بے قصور مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلا دیئے جانے سے زیادہ افسوسناک ہے عام آدمی پارٹی (جو دہلی پر حکمراں ہے) ،کانگریس (جسے مسلمانوں کی مسیحائی کا دعویٰ ہے) اور نام نہاد مسلم قیادت اور تنظیموں کی بے حسی اور بے عملی۔ مسلم تنظیموں نے وطیرہ بنا لیا ہے کہ فساد یا ایسا کوئی دوسرا سانحہ ہونے کے بعد وہاں پہنچ کر ’راحت‘ پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔یعنی متاثرین اور ضرورتمندوں کو کھانا کپڑا دیا اور بری الذمّہ ہو گئے۔
جمعیۃ علماء ہند قانونی کارروائی کا بیڑہ اٹھا لیتی ہے جو جہانگیر پوری معاملے میں بھی کیا ہے۔ قانونی کارروائی اچھی بات ہے اور ضروری بھی ہے،لیکن اس سے بھی کہیں زیادہ ضروری ہے حکومت کے پاس جا کر احتجاج درج کرانا۔آخر کیوں کوئی مسلم رہنما یا تنظیم وزیرِ اعظم،وزیرِ داخلہ یا کم از کم قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوبھال سے ملاقات کر کے مسلمانوں کے ساتھ مستقل طور سے کئے جارہے غیر قانونی مظالم کے معاملات کو اٹھا کر اس کا کوئی ازالہ اور حل ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرتے۔ملک میں ہو رہے کسی اندرونی خلفشار کا سروکار بھی قومی سلامتی سے اتنا ہی گہرا ہے جتنا کسی خارجی شرارت کا خدشہ۔ اور حیرت جہانگیر پوری جیسے واقعات پر مجھےاس لئے نہیں ہے کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ ہونا ہی تھا۔میں کئی سال سے کہتا اور لکھتا چلا آ رہا ہوں کہ آر ایس ایس کا ایجنڈاایک مفصل اور مکمل منصوبے پر مبنی ہے جس کا ہدف ہے ہندوستان کو ’ ہندو راشٹر ‘ میں تبدیل کرنا جس میں کسی دوسرے مذہب کے پیروؤں خصوصاً مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہو گی۔اور یہ منصوبہ خفیہ ہر گز نہیں ہے جیسا کہ آگے بیان ہو گا۔
پانچ اگست 2020کو جب وزیرِ اعظم نےایودھیا میں چاندی کی اینٹ رکھ کر رام مندر کی بنیاد گزاری کی(جس کے لئےایک مسلمان نے بھی سونے کی اینٹ عطیہ کی ) تو سرکاری ذرائع سے اسے ایک خبر کے طور پر ہی نشر کیا گیا لیکن تمام دنیا کے لئے اس میں یہ پیغام مضمر تھا کہ بھارت اب مکمّل ہندو راشٹر ہے۔ 29جولائی 2020کو سپریم کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کی گئی جس میں تقاضہ کیا گیا تھا کہ آئینِ ہند کی بیالیسویں ترمیم کے ذریعے اس کی تمہید میں شامل کئے گئے الفاظ ’’ سیکولر‘‘ اور ’’ سوشلسٹ‘‘ کو آئین کی تمہید سے خارج کیا جائے کیونکہ بھارت کا ثقافتی محور ’دھرم‘ ہے مذہب نہیں ۔(یاد رہے منو سمرتی میں دھرم کی تشریح کرتے ہوئے اسے دیگر مذاہب کے تصوّرِ مذہب سے ممیّز کیا گیا ہے حالانکہ مذکورہ عرضداشت میں یہ صراحت نہیں کی گئی)۔بالفاظ دیگر ملک کا سیاسی ڈھانچہ ’’دھرم‘‘ پر مبنی ہے یا ہونا چاہیے۔
اگلے ہی روز یعنی 30 جولائی 2020کو نئی قومی تعلیمی پالیسی کا اعلان کر دیا گیا جس کے تحت وسائلَ انسانی کی وزارت کو صرف وزارتِ تعلیم سے موسوم کیا گیا( یہ بات بہت کم لوگوں کے علم میں ہو گی کہ ’وسائل انسانی‘ کے فروغ کا مقصد سامنے رکھ کر تشکیل دی گئی وزارت کے تحت مسلمانوں کو کئی تعلیمی ( بشمول وظیفہ،گرانٹ ،فیلوشپ وغیرہ)اور روزگار سے متعلّق ایسے فوائد حاصل تھے جو اب انہیں دستیاب نہیں ہوں گے)یہ ایک بہت اہم پیش رفت تھی کیونکہ ہندوتو کے ایجنڈا میں تعلیمی پالیسی اور طریقۂ کار کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔2014کے انتخابات سے قبل بی جے پی نے جو منشور شائع کیا تھا اس میں تعلیم سے متعلّق پارٹی کے منصوبوں کا ذکر تھا لیکن کسی بھی سیاسی جماعت یا مسلم تنظیم نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔بی جے پی کے پچھلے دورِ اقتدار میں اس وقت کے وزیرِ ثقافت مہیش شرما نے اپنی نئی دلّی واقع قیام گاہ پر ایک خفیہ میٹنگ کااہتمام کیا جس میں کئی ’ماہرین تعلیم‘ وغیرہ شریک ہوئے،اس میٹنگ میں منصوبہ بنایا گیا کہ ملک کی تاریخ دوبارہ لکھی جائے گی جو مہا بھارت سے شروع ہوگی۔ بین الاقوامی نیوز ایجنسی رؤٹر (Reuter ) نے اس خفیہ میٹنگ کا بھانڈہ پھوڑا اور میں نے ایک مضمون میں اس کا پس منظر اور تفصیل بیان کی۔2019میں آر ایس ایس کے قومی سیکریٹری سنیل امیبکر کے ذریعے تصنیف شدہ ایک انگریزی کتاب شائع ہوئی جس کا عنوان تھا ’’اکیسویں صدی کے لئے آر ایس ایس کا نقشۂ سفر (روڈمیپ)‘‘۔اکتوبر 2019میں اس کتاب کا ممبئی میں اجرا کرتے ہوئے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے اپنی تقریر میں کہا ’’ہندو راشٹر ہمیں ورثے میں ملا ہے‘‘۔ان کا مطلب تھا کہ ہندو راشٹر تو ہمیشہ سے ہے۔اس کتاب میں ملک کی تعلیمی پالیسی کو مکمّل طریقے سے ’’ہندیانے‘‘(Indianize ) کے منصوبے کا ذکر تھا۔NCERT کے ذریعے شائع کی جانے والی اسکولی نصاب کی کتابوں میں ہندوتو کے اصولوں پر مبنی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور کچھ کافی عرصہ پیشترکی جاچکی ہیں،کئی صوبوں میں نصابی کتابوں سے مشہور مسلم حکمرانوں جیسے ٹیپو سلطان اور اورنگ زیب وغیرہ کے نام یا تو نکال دیئے گئے ہیں یا ان کے بارے میں کوائف و حقائق تبدیل کر کے انہیں غدار کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔تمام مسلم حکمرانوں کو ’’ بیرونی حملہ آور ‘‘ اور لٹیروں سے موسوم کر دیا گیا ہے یا کیا جا رہا ہے۔ قومی کاؤنسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL) کو کھلی ہدایات دی گئی ہیں کہ کن موضوعات پراور کن مصنّفوں کی کتابیں شائع کی جائیں۔یا نہ کی جائیں۔ مصنّفین کو مسوّدے کے ساتھ اس مضمون کا حلف نامہ دینا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے کہ اس کی کتاب میں حکومت کے خلاف کسی قسم کا مواد نہیں ہے۔اور خواہشمند ادیب اس کی بھی تعمیل کر رہے ہیں۔
کچھ عرصہ ہوا ایک سینئر آئی پی ایس افسر ناگیشور راؤ نے اچانک ٹویٹ پر ٹویٹ کر کے مسلمانوں کے خلاف عجیب سنگین ماحول بنا دیا ۔اس کا کہنا تھا کہ ہندؤوں کو علم سے دور رکھ کر ان کے مذہب کو اوہام پرستی قرار دے کران کی تہذیب،تعلیم اور بنیادی شناخت کا abrahamisation کر دیا گیا ہے یعنی ’ابراہیمیا‘ دیاہے۔ (یہودیت، عیسائیت اور اسلام کو’ ابراہیمی مذاہب ‘کہا جاتا ہے)۔یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نے’ اسلامیانا‘ کے بجائے ’ابراہیمیانا‘ کی اصطلاح استعمال کی ۔اس کے بہت دور رس نتائج ہوں گے۔یہ وہی افسر ہے جس کو2019میں حکومت نے سی بی آئی کے ایڈیشنل ڈائریکٹرکے طور پر مقرّر کیا تھا اور جس کا ڈائریکٹر سے مچیٹا ہو کر بات سپریم کورٹ تک پہنچی اور سی بی آئی کے حالات آج تک معمول پر نہیں آئے۔کوئی بھی حاضر سروس افسر اس قسم کے بیانات نشر نہیں کر سکتا اور بعض سابقہ افسروں نے فوراً اس کے خلاف شکایت بھی ہوم منسٹر وغیرہ کو بھیج دی لیکن ہوا کچھ بھی نہیں۔
ہری دوار اور دہلی وغیرہ میں ’دھرم سنسد‘ منعقد کر کے مسلمانوں کی نسل کشی کی نہ صرف دھمکیاں دی گئیں بلکہ نہایت اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے عام ہندوؤں خصوصاً نوجوانوں کو اکسایا گیا کہ وہ نسل کشی کی عملی شروعات کر دیں۔ کرناٹک میں حجاب کا معاملہ ہوا اور اس کے بعد حلال گوشت کے بارے میں تنازع کھڑا کر کے اس کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔پورے ملک بشمول دہلی میں آر ایس ایس کارکنان کے گروہ سرکاری عمارات اور عام شہری جائیدادوں اور رہائش گاہوں پر بھگوے جھنڈے لگانے میں سرگرم ہیں۔کئی مقامات پر مسجدوں اور درگاہوں پر بھی یہ جھنڈے لگا دیئے گئے۔
درج بالا بظاہر غیر مربوط خبریں اور واقعات دراصل ایک بہت منضبط اور خطرناک سازش کی کڑیاں ہیں جس کا ہدف ہندوستانی مسلمان ہیں۔مسلمانوں پر جو برا وقت آیا ہے وہس بد سے بدتر ہوتا چلا جائے گا۔اور ملّت اس وقت مطلقاً بے سر یعنی (headless ) ہے۔نہ رہبری ہے نہ رہنمائی۔موجودہ صورتِ حال اور آئندہ نا مساعد حالات پر غورو فکر تو کیا ان کا کہیں سنجیدگی سے ذکر تک نہیں۔سیاسی قیادت ناپید ہو چکی ہے۔جو نام نہاد سیاسی شخصیات ہیں انہوں نے اقتدار کی کاسہ لیسی شعار کر کے اپنے لئے ایسی حدودِ طمانیت(comfort zones ) متعیّن کر لی ہیں جن سے وہ باہر نہیں آنا چاہتے ۔ اور نہ کبھی آئیں گے۔اہم قومی مسائل سے عوام کی توجّہ دور رکھنے کے لئے الیکٹرونک میڈیا جس طرح دن رات چین سے جنگ،کورونا،پاکستان ،چھوٹے موٹے زلزلوں،سیلاب اور حجاب کے بارے میں چیخم دھاڑ مچائے رکھتا ہے وہی کردار بعض مذہبی رہنماؤں نے اختیار کر لیا ہے، جو دن رات لاک ڈاؤن میں عبادت سے لے کر، لاؤڈ اسپیکر سے اذان، رویتِ ہلال اور عید بقرعید سے متعلّق معمولی معمولی سوالات کو بڑے بڑے مسائل کی صورت میں پیش کر کے اختلافی جنگیں چھیڑے رہتے ہیں۔مسلکی اختلافات نے ردائے دین و ملّت کو پارہ پارہ کر دیا ہے اور یہ خود ساختہ رہنمائے ملّت اپنے اپنے مسلکوں اور عقائد کے پیرو کاروں کی تعداد کے زعم میں سرکشی کی اس انتہا کو پہنچ گئے ہیں کہ اتحاّدِ ملّت کی بات بھی کرنے والے پر ’جہالت‘ اور گمرہی کا لیبل چسپاں کر کے پر خلوص سینئر صحافیوں تک کو یہ کہہ کر سرزنش کرنے سے نہیں چوکتے کہ ’آپ بس اپنے کام سے کام رکھیئے اور مذہبی معاملات ہم پر چھوڑ دیجے‘۔
ان حالات میں واحد حل یہ ہے کہ تمام ذی فہم مسلمان ملّاؤں کے چکّر سے نکلیں اور اپنی عقل و تدبّر سے کام لے کر اپنے معاشی اور معاشرتی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں نیز مستقبل قریب میں در پیش خطرات کے سدّ ِ باب کا طریقہ وضع کریں۔وہ خطرات جن سے کروڑوں مسلمان بہت جلد رو برو ہوں گے۔کورونا کی عالمی وبا نے مذاہب کا پول کھول کے رکھ دیا ہے اور مسلمانوں پر بھی یہ ثابت ہو گیا ہے کہ محض دعاؤں سے مصائب اور خطرات نہیں ٹلا کرتے۔ہر مصیبت عمل کا تقاضہ کرتی ہے۔اگر کم از کم تمام پڑھے لکھے مسلمان مذہبی اور مسلکی مسائل و اختلافات سے بالا تر ہو کرموجودہ اور آئندہ صورتِ حال کا تفکّر و تدبّر سے حل تلاش کریں۔خواہ تدبّر اپنے ذاتی مسائل میں ہی کیا جائے۔۔۔ تو ایک فکری اتحاد از خود پیدا ہو گا۔اور فکری اتحاد سے تو بڑے بڑے انقلاب لائے جا سکتے ہیں۔ فکر و تدبّر کا یہ عمل فوری طور پر شروع نہ کر دیا گیا تو بہت جلد مسلمانوں کے گھر بار ہی نہیں خود مسلمان سڑکوں پر بل ڈوزروں سے کچلے جا رہے ہوں گے …..اگر جہانگیر پوری کے واقعے کو نوشتۂ دیوار سمجھ کر نہ پڑھا جائے۔
(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

Related posts

مدارس اسلامیہ اور عصری تقاضے,ڈاکٹر محمد حفظ الرحمن کی ایک قابل قدر کاوش

alwatantimes

فرقہ وارانہ کشیدگی کو منطقی انجام کی طرف بڑھنے سے روکا جائے

alwatantimes

اے ایمان والو!-اللہ سے ڈرو اور وسیلہ تلاش کرو

alwatantimes

Leave a Comment