alwatantimes
Image default
اسلامیات مضمون

اے ایمان والو!-اللہ سے ڈرو اور وسیلہ تلاش کرو

مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی
ترجمانی:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کی جناب میں بازیابی کا ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو، شائد کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوجائے۔(المائدہ آیت 35)
آیت مذکورہ میں تین اہم باتیں بیان ہوئی ہیں۔
۱۔ اللہ سے ڈرنے کا حکم۔
۲۔ اللہ سے قریب ہونے کی تعلیم۔
۳۔اللہ کا قرب حاصل کرنے کے ذرائع۔
نافرمانی کے انجام بد سے ڈرو
آیت کے آغاز میںاللہ تبارک تعالیٰ جس بات سے ڈرا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ احکام خدا وندی اور ارشادات نبویؐ کی نافرمانی سے بچو، اللہ تعالیٰ اور رسول صلعم کی فرمانبرداری کرنے کیلئے جو چیز تمہارے لئے ضروری ہے وہ یہ کہ تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس سے ڈرو، کیونکہ خدا کا خوف اس کا ڈر بندے مومن کو اللہ کے قریب اور شیطان ملعون سے دور کرتا ہے۔یعنی آدمی اللہ تبارک و تعالیٰ سے جتنا زیادہ ڈرے گا اتنا ہی اس کے قریب ہوتا چلا جائے گا اور اللہ تعالیٰ بھی ایسے نیک بندے کو اپنے قریب کرنے کی راہیں فراہم کردیتے ہیں یعنی توفیق عطا فرماتے ہیں۔
اور جس شخص کو اللہ کی قربت نصیب ہوجائے وہ دنیا و آخرت میںکامیاب ہوگیا مطلب یہ کہ دنیا کی آزمائش والی زندگی اس کیلئے آسان فرمادیتے ہیں اور آخرت کی زندگی کوتمام غموں سے دور کرتے ہوئے جنت میں داخل کردیتے ہیں پھر کبھی کوئی دکھ درد اسے نہ ہوگا ،ہمیشہ ہمیشہ ناختم ہونے والی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے گا۔ یعنی دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہوئے جس طرح رب چاہی زندگی بسر کیا تھا ٹھیک اسی کے مطابق آخرت میںاللہ تعالیٰ اس کی من چاہی زندگی اسے بخش دیں گے۔
قرب الٰہی کے ذرائع تلاش کرو
آیت مبارکہ میں دوسری بات یہ بیان ہوئی ہے کہ اے میرے پیارے بندو میرا قرب حاصل کرنے کے ذرائع تلاش کرو ( جو میں نے تمہارے لئے اپنی کتاب قرآن مجید (الفرقان) اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں رکھ دیا ہے)یعنی ان تعلیمات میں جو جو باتیں ، جو جو احکام تمہیں مل جائیںان پر عمل کرو کہ یہ چیزیں قرب الہی کے بہترین ذرائع ہیں،لہذا اس کی جستجو کرو،آیت مبارکہ میں جو الفاظ آئے ہیں’’وابتغو الیہ الوسیلہ ‘‘اس سلسلہ میں مولانا محمد شفیع صاحبؒ (مفتی اعظم پاکستان) نے یوں تحریر فرمایا کہ۔
اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ ہر وہ چیز ہے جو بندہ کو رغبت و محبت کے ساتھ اپنے معبود کے قریب کردے، اس لئے سلف و تابعین نے اس آیت میں وسیلہ کی تفسیر طاعت و قربت اور ایمان و عمل صالح سے کی ہے، بروایت حاکم۔ حضرت حذیفہؓ نے فرمایاکہ وسیلہ سے مراد قربت و اطاعت ہے اور ابن جریرؒ نے حضرت عطا ء اور مجاہد اور حسن بصریؒ وغیرہ سے بھی یہی نقل کیا ہے اور ابن جریر وغیرہ نے حضرت قتادہؒ سے اس آیت کی تفسیر یہ نقل کی ہے۔
’’تقربوالیہ بطاعۃ و العمل بما یرضیہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب حاصل کرو، اس کی فرمانبرداری اور رضا مندی کے کام کر کے ،اس لئے آیت کی تفسیر کا خلاصہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرو، بذریعہ ایمان اور عمل صالح کے۔
(معارف القرآن ،جلدسوم ،صفحہ126 تا127)
سلف صالحین و تابعین کی اس تفسیر پر غور کرنے سے ہمارے سامنے یہ بات آرہی ہے کہ ایمان باللہ اور اعمال صالحہ کے ذریعہ ہی سے بندہ اللہ کے قریب پہنچ جاتا ہے اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کا یہ ایک واحد ذریعہ ہے۔
اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جب انسان باطل خداوں کی پرستش چھوڑ کر ایک ہی خدا (خدا ئے واحد لا شریک) پر ایمان لاتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوجاتا ہے تو پھر اس کے ساتھ باطل خداوں سے اس کی محاذ آرائی شروع ہوجاتی ہے، ان حالات میں ان سب کا مقابلہ کرتے ہوئے ایمان و عمل پر ثابت قدم رہنا دراصل تقرب الٰہی کی راہوں پر چل پڑنا ہے۔
اللہ کی راہ میںکشمکش اور جدوجہد
آیت مبارکہ میں اول تو تقویٰ کی تاکید کی گئی پھر آگے فرمایا اللہ کا قرب حاصل کرو ، ایمان و عمل صالحہ کے ذریعہ تقرب الٰہی حاصل کرو ،آخر میں فرمایا جدوجہد کرو۔ ’’وجاھد وافی سبیلہ ‘‘ یعنی جہاد کرو اللہ کی راہ میں۔
آیت مبارکہ کے اس تیسرے فقرے میں اللہ کی راہ میں کوشش کرنے کی بات آرہی ہے اگر چیکہ عمل صالح میں جہاد بھی داخل تھا۔
لیکن اہل ایمان کو عملی زندگی میں جہاد کا اونچا مقام اور اس کی اہمیت کے پیش نظر اللہ تبارک و تعالیٰ اسے الگ سے ارشاد فرما رہے ہیں۔ جیسا کہ ہم اوپر تحریر کرچکے، یعنی ایک مسلمان کو بندے مومن بن کر رہنے میں کئی طرح کی رکاوٹیں آتی ہیں……چاہے اس کا تعلق عبادت سے ہو یا پھر نفس کی شرارتوں سے ،یا پھر معاملہ معاشرت سے ہو یا معیشت سے، غرض کہ سیاسی و تمدنی میدان، ہر طرف سے مقابلہ در پیش رہتا ہے اور ہر مقابل یہ چاہتا ہے کہ اس کے طبع ذات طور طریقے، رسم و رواج، ضوابط و قوانین کا یہ پابند ہوجائے، ظاہر بات ہے کہ جب ایسے حالات پیدا ہوتے ہوں تو بندے مومن کو اس کے خلاف مقابلہ کیلئے سخت جدوجہد و جانفشانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ورنہ باطل اپنی قوت کے ذریعہ اور اپنے فاسد خیالات و باطل نظریات کو پھیلاتے ہوئے انسانوں کو بندگی رب سے دور کر کے اپنی غلامی میں لے لے گا۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ تقویٰ،قرب،اور جدوجہد کی تعلیم اہل ایمان کو دے رہے ہیں۔
حضرت مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی صاحب نور اللہ مرقدہ نے بڑے ہی دلنشین انداز میں اس کی تفہیم فرمائی ہے ،وہ تحریر کرتے ہیں کہ۔
’’اصل میں لفظ ’’جاھدوا‘‘ استعمال فرمایا گیا ہے جس کا مفہوم محض ’’جدوجہد‘‘ سے پوری طرح واضح نہیں ہوگا۔
مجاہدہ کا لفظ مقابلہ کا مغتضی ہے اور اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ جو قومیں اللہ کی راہ میں مزاحم ہیں، جو تم کو خدا کی مرضی کے مطابق چلنے سے روکتی اور اس کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں، جوتم کو پوری طرح خدا کا بندہ بن کر نہیں رہنے دیتیں اور تمہیں اپنایا کسی غیر اللہ کا بندہ بننے پر مجبور کرتی ہیں ،ان کے خلاف اپنی تمام امکانی طاقتوں سے کشمکش اور جدوجہد کرو۔اسی جدوجہد پر تمہاری فلاح و کامیابی کا اور خدا سے تمہارے تقرب کا انحصار ہے۔
اس طرح یہ آیت بندہ مومن کو ہر محاذ پر چومکھی لڑائی لڑنے کی ہدایت کرتی ہے۔
۱۔ ایک طرف ابلیس لعین اور اس کا شیطانی لشکر ہے۔
۲۔ دوسری طرف آدمی کا اپنا نفس اور اس کی سرکش خواہشات ہیں۔
۳۔ تیسری طرف خدا سے پھرے ہوئے بہت سے انسان ہیں جن کے ساتھ آدمی ہر قسم کے معاشرتی ،تمدنی اور معاشی تعلقات میں بندھا ہوا ہے۔
۴۔ چوتھی طرف وہ غلط مذہبی، تمدنی اور سیاسی نظام ہیں جو خدا سے بغاوت پر قائم ہوئے ہیں اور بندگی حق کے بجائے بندگی باطل پر انسان کو مجبور کرتے ہیں۔ ان سب کے حربے مختلف ہیں مگر سب کی ایک ہی کوشش ہے کہ آدمی کو خدا کے بجائے اپنا مطیع بنائیں۔ بخلاف اس کے آدمی کی ترقی کا اور تقرب خدا وندی کے مقامات اس کے عروج کا انحصار بالکلیہ اس پر ہے کہ وہ سراسر خدا کا مطیع اور باطن سے لے کرظاہر تک خالص اس کا بندہ بن جائے۔ لہذا اپنے مقصود تک اس کا پہنچنا بغیر اس کے ممکن نہیں ہے کہ وہ ان تمام مانع و مزاحم قوتوں کے خلاف بیک وقت جنگ آزما ہو ، ہر وقت ہر حال میں ان سے کشمکش کرتا رہے اور ان ساری رکاوٹوں کو پامال کرتا ہوا خدا کی راہ میں بڑھتا چلا جائے۔ (تفہیم القرآن )
شیخ السلام مولانا شبیر احمد عثمانی نے ’’وَجَاہِدْوا فِسَبِلِہ ‘‘ کی تفسیر یوں فرمائی ہے
پچھلے رکوع کے آخر میں ان لوگوں کو دنیوی و آخروی سزا بیان فرمائی تھی جو خدا اور رسول سے جنگ کرتے اور ملک میں بدامنی اور فساد پھیلاتے ہیں۔
اس رکوع میں مسلمانوں کو ان سزاوں سے ڈرا کر بتلایا گیا کہ جب شقی اور بد بخت لوگ خدا اور رسول سے جنگ کریں تو تم خدا اور رسول کی طرف سے جہاد کرو۔
وہ اگر زمین پر فساد پھیلاتے ہیں تو تم اپنی کوشش اور حسن عمل سے امن و سکون قائم کرنے کی فکر کرو۔
(القرآن الکریم و ترجمہ معانیھاو تفسیرہ۔ مطبوعہ سعودی عرب )
مفکر اسلام مولانا مودودیؒ کی تشریح اور مولانا شبیر احمد عثمانیؒ (شیخ الاسلام ) کی اس تحریر سے یہ بات واضح ہوکر ہمارے سامنے آئی ہے کہ
جو لوگ خدا اور رسول سے جنگ کرتے ہیں ان کے مقابلہ کیلئے اہل ایمان کا اللہ رسول کی طرف سے لڑنا ضروری ہے اور جو لوگ خدا رسول کی تعلیمات کے خلاف اپنے باطل خیالات من گھڑت عقائد کا پرچار کرتے ہیں ان کے مقابلہ کیلئے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکیزہ خیالات ،اسلامی عقائد و شرعی قوانین عوام کے سامنے پیش کریں تا کہ خدا رسول کی بغاوت پر مبنی جھوٹے افکار و خیالات اور عقائد کا رد ہو۔
حاصل کلام
آیت مبارکہ کا حاصل اور ہمارے لئے یہ درس ہے کہ ہم مسلمانوں میں اللہ کا ڈر خوف پیدا ہو، ہر وقت یہ فکر رہے کہ کوئی ہمیں دیکھے نہ دیکھے بہر حال اللہ تبارک تعالیٰ ہمیں دیکھ رہے ہیں اور ہماری نیکی و بدی کو نوٹ کروارہے ہیں۔ اس طرح کا یقین ہمارے دلوں میں بیٹھ جائے۔ دوسری بات یہ کہ ہم ان راہوں کو تلاش کریں جو خدا کے قرب تک ہمیں پہنچاتی ہیں( جو کتاب اللہ اور سنت رسولؐ) پر عمل کرنے سے ہمیں حاصل ہوتی ہیں۔
تیسری بات یہ کہ اپنے ایمان و یقین کو قائم رکھنے کیلئے اپنی طاقت و قوت کے مطابق جدوجہد کریں اور ہمارے شب و روز اس طرح گزریں جس طرح ہمارے اسلاف میں خلفاء راشدین و صحابہ کرامؓ نے گزارا ہے یعنی ان کی مبارک زندگیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں کہ جنہوں نے قرآن کی اس آیت مبارکہ کے عین مطابق حرف بہ حرف عمل کر کے دنیا کو دکھادیا اور اللہ نے بھی ان کو اپنا قرب عطا کیا اور کسی کو دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری سنائی اور بہت سوں کو رضی اللہ عنہم و رضو عنہم کے اعلیٰ خطاب سے نواز دیا۔علامہ پیر کرم شاہؒ اس سلسلہ میں اور باتوں کے علاوہ یہ بات بھی بہت مختصر اور جامع انداز میں تحریر فرمائی ’’اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے تقویٰ اختیار کرنے ، وسیلہ تلاش کرنے کے علاوہ ہر دم مصروف جہاد بھی رہنا ضروری ہے جہاد اصغر بھی اور جہاد اکبر بھی۔ کفار سے بھی نفس امّارہ سے بھی۔ اور ان تمام نظریات سے بھی جو کسی حیثیت سے اسلامی عقائد اور مسلّمات سے ٹکراتے ہیں۔ تب جاکر فلاح و کامرانی نصیب ہوگی۔ (ضیاء القرآن جلد اول صفحہ 466 حاشیہ 77)

Related posts

روزہ

alwatantimes

نشے کی علت حرمت میں یہ بھی تھا پہلو!

alwatantimes

کسانوں نے حکومت سے نے اپنا وجود منوا ہی لیا

alwatantimes

Leave a Comment