alwatantimes
Image default
قومی

ہندوستان کی جنگ آزادی کی کوکھ سے جنم لینے والی انڈین نیشنل کانگریس لامحدود جدوجہد اور قربانیوں کی بنیاد پر کھڑی ہے:سونیا

اُدے پور(ایجنسی): راجستھان کے اُدے پور میں منعقدہ کانگریس کے سہ روزہ ’چنتن شیویر‘ کا اتوار کے روز اختتام ہوگیا۔ شیویر کے آخری دن کانگریس کی تشکیل شدہ 6 کمیٹیوں کے سربراہان نے پارٹی صدر سونیا گاندھی کو اپنی اپنی رپورٹ پیش کی۔ شیویر کے اختتامی اجلاس سے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے خطاب کیا جبکہ سونیا گاندھی نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔کانگریس پارٹی نے نو سنکلپ چنتن شیویر کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا، ہندوستان کی جنگ آزادی کی کوکھ سے جنم لینے والی انڈین نیشنل کانگریس لامحدود جدوجہد اور قربانیوں کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ ملک کے کروڑوں باشندگان نے کانگریس کی قیادت میں جس انقلاب کا آغاز کیا تھا، وہ برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کر کے اپنی حکومت اور اپنے آئین کے لئے تو تھا ہی، اس کا مقصد ہر طرف پھیلی عدم مساوات، امتیازی سلوک، تعصب، قدامت پسندی، چھوا چھوت اور تنگ نظری کو ختم کرنے کرنا بھی تھا۔حب الوطنی اور قربانی کا احساس، سرشار آزادی کی تحریک کی بنیاد، سب کے لیے انصاف، کروڑوں کانگریسیوں نے آزادی کی جدوجہد میں جیل کے غیر انسانی تشدد کو برداشت کیا اور مادر ہند کی آزادی کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پید کیا۔ سال 1885 سے 1947 تک کی 62 سال کی طویل جدوجہد کے بعد تحریک آزادی کا یہ انقلاب ہندوستانی آزادی میں تبدیل ہوا۔انصاف، جدوجہد اور قربانی کی اس روایت نے آزادی کی بعد اگلے 70 سال تک ہندوستان کے اتحاد، سالمیت، ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار کی۔ انڈین نیشنل کانگریس اور اس کی قیادت نے انتہا پسندی، نکسل ازم، عسکریت پسندی اور تشدد کا راستہ اپنانے والی ہر طاقت سے لوہا لیا۔
ہندوستانی اقدار کے دفاع کی اس جدوجہد میں مہاتما گاندھی، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور بے شمار کانگریسیوں نے اپنی جان کی قربانی پیش کی۔سنہ 1947 میں ہندوستان کو سیاسی آزادی تو حاصل ہوئی لیکن ملک کے سامنے بے شمار چیلنجز تھے۔ نہ ضرورت کے مطابق اناج پیدا ہوتا تھا اور نہ ہی صنعتیں تھیں، سوئی تک بنانے کے کارخانے نہیں تھے، صحت سے متعلق خدمات نہیں تھیں، تعلیمی ادارے نہیں تھے، آبپاشی کی سہولت نہیں تھی، حسب ضرورت بجلی کی پیداوار نہیں تھی، نقل و حمل اور مواصلات کے وسائل موجود نہیں تھے اور ملک کی حفاظت کا بھی مکمل انتظامات نہیں تھا۔ ملک کو سینکڑوں شاہی ریاستوں اور جاگیرداروں سے آزاد کرا کر ایک رنگ میں رنگنا اپنے آپ میں ایک بڑی ذمہ داری تھی یعنی آزادی کے وقت غیر ترقی یافتہ ہندوستان میں چیلنجز کی بہتات تھی، جسے کانگریس قیادت کے مضبوط عزائم نے موقع میں تبدیل کر دیا اور ایک مضبوط، امن، جامع اور ترقی پسند ہندوستان کی داغ بیل ڈالی۔ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم، پنڈت جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ان کے معاونین نے نہ صرف ملک کو متحد کیا بلکہ منصوبہ کمیشن اور پنج سالہ منصوبے کے توسط سے سے اناج، ڈیم اور آبپاشی، پاور پلانٹ، جوہری توانائی، سڑک، ریل، مواصلات، سیکورٹی، تعلیمی اداروں، تحقیقی اداروں، فیکٹریوں اور بنیادی ڈھانچہ اور ترقی کی بنیاد کھڑی کی۔ پنڈت نہرو نے عوامی شعبہ کے اداروں، آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، یونیورسٹیاں، بڑی آبپاشی منصوبہ بندیوں، بڑی اسٹیل فیکٹریاں، جوہری توانائی کمیشن، ڈی آر ڈی او کا قیام کیا اور انہیں جدید ہندوستان کے مندروں سے تعبیر کیا۔پھر 1960 اور 1970 کی دہائی میں کانگریس نے ملک میں سبز انقلاب کا آغاز کیا۔ ملک کو کھانے کے اناج میں خود انحصار بنایا۔ بینکوں کو قومی بنایا جس سے ملک کے عام لوگوں کے لئے بینکنگ کے دروازے کھل گئے۔ ہندوستان نے خودمختاری کو چیلنج دینے والی افواج کے دانت کھٹے کئے اور بنگلہ دیش کی آزادی میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا۔سنہ 1980 کی دہائی میں ایک بار پھر کانگریس نے 21ویں صدی کے ہندوستان کی بنیاد رکھی۔ ایک طرف ٹیلی کمیونیکیشن انقلاب کا عروج ہوا، دوسری طرف پنچایتی راج اور شہری اداروں کو آئینی حیثیت فراہم کر کے مرکزیت کو کم کیا۔ کمپیوٹر اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے انقلاب نے جدید ہندوستان کی تعمیر میں سب سے اہم کردار ادا کیا، جس کے خوشگوار نتائج بھی نظر آ رہے ہیں۔ اس کے بعد 1990 میں جب معیشت پر خطرے کے بادل منڈلائے تو کانگریس نے ایک مرتبہ پھر اقتصادی لبرلائزیشن اور عالمگیریت کی شروعات کر کے ہندوستان ترقی اور معیشت کو ایک نئی سمت فراہم کی۔اس کے بعد 2004 سے 2014 تک کانگریس کے دور اقتدار میں بھی ہندوستان نے ترقی کے نئے راستے طے کئے۔
ایک طرف سونیا گاندھی کی قربانی اور دوسری طرف ڈاکٹر منموہن سنگھ کی اقتصادی مہارت نے ملک کو نئی بلندیاں پر پہنچا دیا۔ سونیا گاندھی، ڈاکٹر منموہن سنگھ، راہل گاندھی کی اجتماعی قیادت اور دور اندیشی نے بااختیار ہندوستان کی تعمیر کی۔ اس دوران منریگا کے تحت لوگوں کو حق روزگار، حق غذائیت، حق تعلیم جیسے اہم حقوق حاصل ہوئے۔کئی طرح کی سازشی قوتوں کو یہ پسند نہیں آیا کہ یہاں کے عوام کو سماجی حقوق حاصل ہوں اور یہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رہے اس لئے طرح طرح کے حربہ استعمال کر کے لوگوں کے حقوق چھیننے کی کوشش کی گئی۔ نوٹ بندی کے نام ملک کے روزگار اور کاروبار پر حملہ بولا گیا، منمانے جی ایس ٹی کے نام پر چھوٹے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو تالابندی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا۔ پھر کورونا کے نام پر لاک ڈاؤن لگا کر بھی لوگوں کو تِل تِل مرنے پر مجبور کیا گیا۔ تکبّر کا یہ عالم تھا کہ گنگا لاشوں سے اٹی پڑی تھی لیکن متکبر حکمران کو وہ لاشیں نظر نہیں آئیں۔گزشتہ 8 سال میں ملک میں بے روزگاری کا دور دورہ ہے، مہنگائی کی آگ نے ہر کسی کو جھلسا دیا ہے۔ گیس سلنڈر خریدنا بھی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ جبکہ پٹرول، ڈیزل، آٹا، تیل، دالیں، سبزیاں، روزانہ استعمال کی چیزوں کے دام آسمان پر ہیں۔ روپیہ گر رہا ہے، لوگوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے اور حکومت ہر سرکاری ادارے کو فروخت کرنے پر آمادہ ہے۔ اپنی انہی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے موجودہ بی جے پی حکومت ملک میں فرقہ وارانہ دشمنی کا ماحول تیار کر رہی ہے۔ اقلیتوں، دلتوں اور غریبوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ بی جے پی مذہب اور ذات کے نام پر نفرت کے بیج بوکر طاقت کی بھوک مٹا رہی ہے۔ اس سے ملک کے مستقبل پر شدید خطرہ لاحق ہے۔ان تمام مسائل پر غوروخوض کے لئے کانگریس نے نو چنتن سنکلپ شیویر کا انعقاد کیا۔ چھ کمیٹیوں نے اپنی اپنی رپورٹ پیش کی۔ حال ہی میں انتخابات میں پارٹی کی توقعات کے مطابق نتائج برآمد نہ ہونے پر تنظیمی خامیوں پر کھلے دل سے بحث کی گئی۔ تمام چھ کمیٹیوں نے جو تجاویز پیش کی ہیں اس سے کئی اہم نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ٹھیک 80 سال پہلے 1942 میں مہاتما گاندھی نے ’بھارت چھوڑو کا نعرہ دیا تھا۔ سال 2022 میں ملک کا نعرہ ہے ’بھارت جوڑو‘۔ یہی ہے اُدے پور کا نو سنکلپ (نیا عزم)۔

Related posts

سال2021: جموں وکشمیر میں سیاسی سرگرمیوں پر غیر یقینی صورتحال ہی سایہ فگن رہی

alwatantimes

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں اپوزیشن کا رویہ بدقسمتی -قابل مذمت تھا: پوری

alwatantimes

ترقی میں ریزرویشن:سپریم کورٹ نے معیار میں رعایت دینے سے کیا انکار

alwatantimes

Leave a Comment