alwatantimes
Image default
بہار

اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ پر سر تسلیم خم کرنا ہی مسلمان ہونے کی پہچان : امیر شریعت

مدھےپورہ:دار القضاء کا وجود اس سر زمین پر اللہ کی رحمت اور اسلامی نظام عدل کی بین علامت ہے ، ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم سب کا فریضہ ہے کہ اگر ہمار ے درمیان کوئی نزاع ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کے احکام کے ذریعہ حل کرائیں اور دار القضاءایسی جگہ ہے ، جہاں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے مطابق معاملات کا حل کیا جاتا ہے ۔ اس لیے ہم سب کو چاہئے کہ اپنے عائلی معاملات دار القضاءکے ذریعہ حل کرائیں ۔ یہ باتیں امیر شریعت بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب مد ظلہ العالی نے 14 مئی کو مدرسہ فرقانیہ عربیہ، محمد پور، مدھیلی بازارعالم نگر مدھے پورہ میں دار القضاءکے قیام کے موقع پر منعقد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں ۔ آپ نے کہا کہ جب ہم لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہتے ہیں تو ہمارے درمیان اور اللہ کے درمیان ایک معاہدہ ہو جاتا ہے ۔اور وہ معاہدہ یہ ہے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یا اللہ آپ ہی اطاعت اور عبادت کے لائق ہیں ، ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں ؛ اور عبادت کا مفہوم صرف نماز، روزہ حج ، زکواۃ نہیں ہوتا ، بلکہ عبادت کا مفہوم یہ ہے کہ ہماری پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری اور ا س کے سامنے جبین اطاعت کو خم کرنے میں گزرے۔ ایک مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ہر فیصلہ پر سر تسلیم خم کر دے۔اس لیے اللہ کی عبادت کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو نماز سے پہلے ، نماز کے اندر، نماز کے بعد ، سونے میں جگنے میں ؛ تمام حالات میں اللہ کی عبادت کرتے رہنا ہے۔اگر دو شخص میں لڑائی ہو جائے تو وہاں پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا یہ ہے کہ فوراً اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کی طرف رجوع کرے۔ جب صحابہ میں کوئی نزاع ہوتا تو فوراً وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہوتے اور اپنا معاملہ پیش کرتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان قاضی اور حاکم تھے ، آپ جو بھی فیصلہ کردیتے صحابہ بلا چون و چرا اس کو قبول کرتے اور اپنے نزاعات کو ختم کر لیتے۔ یقینا شریعت کے فیصلہ کو قبول کرنے میں نہ صرف مدعی اور مدعا علیہا کا فائدہ ہے بلکہ پورے سماج کا فائدہ ہے ۔ہم تمام مسلمانوں کے لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ اس نظام کو اپنی زندگی میں نافذ کریں ۔آپ نے فرمایا کہ دار القضاءایسی جگہ ہے ، جہاں ہر ایک کو انصاف ملتا ہے ، یہاں نہ کوئی ہارتا ہے نہ کوئی جیتتا ہے بلکہ دونوں فریق انصاف پاتے ہیں اور دونوں جیت کر اٹھتے ہیں ، جس کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے وہ شریعت کے مطابق اپنا حق پانے کے اعتبار سے جیتتا ہے اور جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے ، وہ بھی حقدار کا حق مارنے کے گناہ سے محفوظ رہتا ہے ۔اوراس طرح دونوں خیر کو حاصل کرتے ہیں۔
دارا لقضاء کا قاضی انصاف کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق فریقین کے بیانات سنتا ہے اور ان کے مسائل کا حل نکالتا ہے ، دار القضاءمیں صرف فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ مسائل اور مشکلات کاحل نکالا جاتا ہے۔آپ نے کہا کہ امارت شرعیہ وہ واحد ادارہ ہے ، جس نے امت کے سبھی مسائل کو بڑے سلیقے سے حل کیا ہے ، اور وقت کے تقاضوں کے پیش نظر ہر ممکن اقدام کیا ہے ۔دارا لقضاء میں وقت بھی کم خرچ ہوتا ہے، پیسہ بھی کم خرچ ہو تا ہے اور فیصلہ بھی صحیح اوراللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق ہو تا ہے۔آپ نے اپنے خطاب کے دوران جناب الحاج عبد الستار صاحب سکریٹری مدرسہ فرقانیہ عربیہ محمد پور مدھیلی بازار کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دار القضاءکے لیے زمین فراہم کی اور جن کی کوششوں سے دار القضاءکا قیام عمل میں آیا ، ان کے علاوہ مقامی طور پر اس سلسلہ میں پیش پیش رہنے والے حضرات کا بھی آپ نے شکریہ ادا کیا جن میں جناب محمد اسرافیل صاحب ، مولانا عبیداللہ مظاہری، جناب محمد ممتاز عالم ، جناب شمشاد عالم صاحب کے نام شامل ہیں۔اس موقع پر مدرسہ ہٰذا کے 33 حفاظ کرام کی دستار بندی بھی حضرت امیر شریعت مد ظلہ و دیگرعلماء کرام کے ہاتھوں عمل میں آئی ۔فارغ ہونے والے حفاظ کو مخاطب کرتے ہوئے حضر ت امیر شریعت مدظلہ نے فرمایا؛ آپ تمام حضرات بہت مبارک باد کے مستحق ہیں ، اس لیے کہ آپ نے ا س عمر میں اللہ کی کتاب کو اپنے سینوں میں محفوظ کر لیا ہے ، اوراب ان شاء اللہ اس کی حفاظت زندگی بھر کریں گے۔میں ان حفاظ سے یہ بھی امید کرتا ہوں کہ یہ اپنے علم کے سلسلہ کو یہیں پر روک نہیں دیں گے بلکہ اس کو مسلسل آگے بڑھائیں گے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے ۔قرآن کریم کا حفظ کر لینا ہی صرف اس کا حق ادا کر نا نہیں ہے ، یقینا یہ بات صحیح ہے کہ ہر لفظ پڑھنے پر دس نیکیاں ملیں گی اس میں کوئی شبہ نہیں ہے، اور حفظ کے بے پناہ فائدے ہیں ،آخرت کے درجات کی بلندی ہوگی ،لیکن اس دنیا میں قرآن کریم کا حق یہ ہے کہ قرآن کریم کو سمجھا بھی جائے ، اس لیے میں ان بچوں سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنے علم کے سفر کو جاری رکھیں ، عربی پڑھیں اور قرآن کریم کو سمجھنے کی استعداد پیدا کریں ۔ہم میں سے ہر شخص کو قرآن کریم کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس کی استعداد اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔حضرت امیر شریعت نے ان حفاظ کے والدین کو بھی مبارک باد دی کہ انہوں نے اپنے بچوں کو علم دین کے لیے منتخب کیا اور اس کے لیے اسباب فراہم کیے۔اور انہیں موقع دیا کہ وہ اللہ کے کلام کو اپنے سینوں میں محفوظ کر سکیں۔حضرت امیر شریعت نے مدرسین کو بھی مبارک باد دی کہ ان بچوں کو حافظ بنانے میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو خرچ کیا۔آپ نے کہا کہ اساتذہ اور مدرسین کا گروہ وہ ہے جس کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کا سب سے بہترین گروہ قرار دیا ہے ۔ قاضی شریعت مرکزی دار القضاءمولانا محمد انظار عالم قاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ صرف چاند دیکھنے اور قومی محصول لینے کا ادارہ نہیں ہے ۔ بلکہ امارت شرعیہ وہ ادارہ ہے ، جس پر لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ ہے اور جو ہر میدان میں مسلمانوں کی رہنمائی کرتی ہے ۔امارت شرعیہ وہ ادارہ ہے ، جس نے امت کی اجتماعیت اور اتحاد کو برقرار رکھا ہے اور اپنے دائرہ کار میں لوگوں کے لیے ایک امیر شریعت کی ماتحتی میں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی شریعت کے دائرے میں گزارنے کوممکن بنایا ہے ۔یہ امارت شرعیہ کے قیام کا بنیادی مقصد ہے ۔آپ نے مزید کہا کہ امت کی رہنمائی اور اس کی خدمت کے لیے امارت شرعیہ کے خدام ہمیشہ تیار رہتے ہیں ، جہاں بھی جیسی بھی ضرورت درپیش ہوئی امارت شرعیہ کے ارکان لبیک کہتے ہوئے حاضر ہوئے۔انہوں نے آپسی انتشار و افتراق ختم کر کے امت کے وسیع تر مفاد میں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ کا اہم مشن اتحاد بین المسلمین ہے۔آپ نے دارا لقضاء کی اہمیت و ضرورت پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ آپسی نزاعات کو دار القضاءکے ذریعہ حل کرائیں۔ اس موقع پرمرکزی دار القضاءامارت شرعیہ سے تربیت یافتہ عالم دین مولانا وحید اللہ قاسمی دارا لقضاء مدرسہ فرقانیہ عربیہ، محمد پور، مدھیلی بازارعالم نگر، ضلع مدھے پورہ کا قاضی شریعت مقرر کیا گیااور حضرت امیر شریعت نے اپنے ہاتھوں سے انہیں پورے مجمع کے سامنے سند قضا دیتے ہوئے ان کے قاضی ہونے کا اعلان کیا۔ اجلاس میں مولانا مفتی محمد فیاض عالم قاسمی قاضی شریعت مدھے پورہ، مولانا عبد الباری صاحب ناظم مدرسہ اسلامیہ نوہٹہ ضلع سہرسہ، مولانا مبارک صاحب امام و خطیب چھوٹی مسجد لائن بازار پورنیہ، قاضی محمدارشد علی رحمانی قاضی شریعت دربھنگہ نے بھی قضاء کے مختلف پہلوؤں پر خطاب کیا۔اور دار القضاءکی اہمیت و ضرورت کو لوگوں کے سامنے تفصیل سے رکھا ۔ اجلاس کا آغاز محمد فرقان متعلم مدرسہ فرقانیہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ مولانا مفتی شاہد صاحب سابق استاذ مدرسہ فرقانیہ عربیہ محمد پور مدھیلی نے نظامت کے فرائض انجام دیے، مولانا منظر عالم قاسمی نے نعت شریف پیش کیا۔ان کے علاوہ حافظ احتشام عالم رحمانی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔یہاں دارا لقضاء کے قیام سے علاقہ کے لوگ بہت خوش ہیں، حضرت امیر شریعت اور امارت شرعیہ کے اکابر علماء کرام کا مقامی لوگوں نے پر جوش طریقہ سے استقبال کیا اوراجلاس عام میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شریک ہوکر امارت شرعیہ سے اپنی قلبی وابستگی اور حضرت امیر شریعت مد ظلہ العالی کی سمع طاعت کا عہد کیا ۔اور امارت شرعیہ کے مقاصد کی تکمیل میں اپنا ہر طرح کے تعاون دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع سے نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی صاحب کے پیغام کو بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ آپ نے اپنے پیغام کے ذریعہ ملک کے موجودہ حالات میں امیر شریعت کی سمع و طاعت اور فرماں برداری میں متحد و منظم زندگی گزارنے ، ملت کے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے کاندھے سے کاندھا ملا کر چلنے اور شریعت اسلامی کے تحفظ و بقاء کے لیے جہد مسلسل کرنے کی دعوت دی ۔اخیر میں حضرت امیر شریعت کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔

Related posts

سکندرآباد: گودام میں خطرناک آگ،بہارکے 11مزدور زندہ جل گئے مہلوکین کے ورثاکیلئے پانچ لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا اعلان

alwatantimes

وزیراعلیٰ نے جنتا کے دربار میں 125 شکایات کی سماعت کرکے افسران کو ضروری ہدایات دیں

alwatantimes

قرآن کی ہدایت و رہنمائی

cradmin

Leave a Comment