alwatantimes
Image default
قومی

ہاردک کا کانگریس سے استعفیٰ، بی جے پی میںہوسکتے ہیں شامل

احمد آباد:وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں اہم اپوزیشن کانگریس کے کارگزار صدر اورپاٹیدار ریزرویشن تحریک کے جانے مانے لیڈر رہے ہاردک پٹیل نے پارٹی قیادت پرشدید حملہ بولتے ہوئےآج پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔سال 2015 کے پاٹیدار ریزرویشن موومنٹ سے سرخیوں میں آئے 28 سالہ ہاردک نے گزشتہ لوک سبھا انتخابات سے قبل مارچ 2019 میں باضابطہ طور پر کانگریس کادامن تھاما تھا اورجولائی 2020 میں انہیں ریاست کی اہم اپوزیشن پارٹی کا ورکنگ صدر بنایا گیاتھا۔کانگریس صدر محترمہ سونیا گاندھی کو بھیجے اپنے استعفیٰ میں مسٹر پٹیل نے جس طرح کی تلخ زبان کا استعمال کیا ہے اور رام مندر ودفعہ 370 کو کشمیر سے ہٹانے جیسے مدوں کی حمایت کی ہے اس سے ان کے جلد ہی حکمراں بی جے پی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ انہوں نے اپنے استعفیٰ کو سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ کیا ہے۔ہاردک نے اپنے استعفیٰ میں الزام لگایا ہے کہ کانگریس صرف احتجاج کی سیاست کرتی ہے۔ اس نے رام مندر، آرٹیکل 370 اورجی ایس ٹی جیسے ضروری مدوں کی یوں ہی مخالفت کی۔ اس کے پاس ترقی کی متبادل سیاست کا فقدان ہے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی پر بالواسطہ حملہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قیادت گجرات اور ملک کے مسائل کو لے کر سنجیدہ نہیں ہیں۔ ملاقات کے دوران پارٹی رہنما ان مسائل سے زیادہ موبائل فون پر نظر رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گجرات میں پارٹی کے بڑے لیڈر اپنے ذاتی مفاد کے لیے بک گئے ہیں۔ وہ ریاست کی ثقافت اور عوام کی توہین کرکے اعلیٰ لیڈروں کو چکن سینڈوچ پہنچانے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔انہوں نے لکھا، ‘آج میں ہمت کرکے کانگریس پارٹی کے عہدے اور پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میرے اس فیصلے کا میرے تمام ساتھی اور گجرات کے عوام خیر مقدم کریں گے۔ میں مانتا ہوں کہ میرے اس قدم کے بعد، میں مستقبل میں گجرات کے لیے واقعی مثبت کام کر سکوں گا۔واضح رہے کہ حال ہی میں ان کی پاٹیدار یا پٹیل برادری کے ایک بڑے لیڈر نریش پٹیل سے ملاقات کے بعد ان کے بی جے پی میں شامل ہونے کی قیاس آرائین تیز ہیں۔ اسی سال گجرات میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ قیاس آرائیاں ایسی بھی تھیں کہ سیاسی طور پراہم ہاردک پہلے عام آدمی پارٹی میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ ریاست کے دبنگ پٹیل یا پاٹیدار برادری کی پرتشدد ریزرویشن تحریک کے دوران انہیں بغاوت کے دو مشہور مقدمات میں طویل عرصے تک جیل میں رہنا پڑاتھا۔ ان کی تحریک کے سبب اس وقت کی وزیر اعلیٰ محترمہ آنندی بین پٹیل کو عہدے سے ہٹنابھی پڑاتھا۔
2017 کے اسمبلی انتخابات میں اس تحریک کے اثر کے سبب بی جے پی کی کارکردگی کافی خراب رہی اور وہ کسی طرح اقتدار میں واپس آنے میں کامیاب رہی۔تاہم، بعد میں پٹیل برادری پر ہاردک کا اثر کافی کمزور ہوگیاتھا۔ جب چند ماہ قبل عام آدمی پارٹی نے ریاست میں اپنی تنظیم کی توسیع کا آغاز کیا تھا، تو اس طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ وہ اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔

Related posts

مہاتما گاندھی پر نازیبا تبصرہ کرنے والا مہاراج کالی چرن گرفتار

alwatantimes

منڈکا حادثہ: 29 افراد اب بھی لاپتہ،27افراد ہلاک،لاش کی شناخت کی کوشش جاری

alwatantimes

شاہی مسجد میں باقیات کی جانچ کیلئے ایڈووکیٹ کمشنر بھیجنے کی مانگ

alwatantimes

Leave a Comment